بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے کروز جہاز ’ایم وی ہونڈیئس‘ پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث تین مسافر ہلاک جبکہ کئی دیگر بیمار ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ جہاز اس وقت افریقہ کے ساحلی علاقے کیپ وردے کے قریب لنگر انداز ہے۔
یہاں جہاز پر موجود افراد، ہلاکتوں، کیسز، جہاز، اس کے سفر اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
جہاز پر کون سوار ہے؟
عالمی ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق جہاز پر 147 افراد سوار ہیں، جو 23 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس سے قبل جہاز کی ڈچ آپریٹنگ کمپنی ’اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز‘ نے بتایا تھا کہ جہاز پر 149 افراد موجود تھے، جن میں ایک جرمن مسافر بھی شامل تھا جو وفات پا چکا ہے۔
کمپنی کے مطابق ’88 مسافر 15 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں 19 برطانیہ، 17 امریکہ، 13 سپین اور آٹھ نیدرلینڈز سے ہیں۔‘
’جہاز پر 61 عملے کے افراد بھی موجود ہیں، جو 12 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں 38 فلپائن، پانچ یوکرین، پانچ نیدرلینڈز اور چار برطانیہ سے ہیں۔‘
تین ہلاکتیں
ہلاک ہونے والوں میں ایک ڈچ میاں بیوی شامل ہیں، جو جنوبی امریکہ کا سفر کرنے کے بعد یکم اپریل کو ارجنٹینا کے شہر اوشوایا سے جہاز پر سوار ہوئے تھے۔
شوہر چھ اپریل کو بیمار ہوا اور 11 اپریل کو انتقال کر گیا۔ اس کی لاش 24 اپریل کو برطانوی جزیرے سینٹ ہیلینا پر اتاری گئی۔ بیوی کی طبیعت بھی خراب ہوئی، وہ جہاز سے اتری اور 25 اپریل کو جوہانسبرگ جاتے ہوئے اس کی حالت بگڑ گئی، جہاں 26 اپریل کو ہسپتال میں اس کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد چار مئی کو ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی۔
جنوبی افریقہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق ’شوہر کی عمر 70 جبکہ بیوی کی عمر 69 برس تھی۔‘
تیسری ہلاکت ایک جرمن خاتون مسافر کی ہوئی، جسے 28 اپریل کو بخار ہوا، بعد ازاں نمونیا میں مبتلا ہوئیں اور دو مئی کو انتقال کر گئیں۔ ان کی لاش اب بھی جہاز پر موجود ہے۔

مزید چار افراد بیمار
ایک برطانوی مرد مسافر 24 اپریل کو بخار اور نمونیا کی علامات کے ساتھ بیمار ہوا اور 26 اپریل کو اس کی حالت بگڑ گئی۔ اسے برطانیہ کے سینشن آئی لینڈ سے جنوبی افریقہ منتقل کیا گیا۔
یہ مریض اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہے جبکہ دو مئی کو اس میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کی حالت میں بہتری آ رہی ہے، جبکہ کمپنی کے مطابق وہ نازک مگر مستحکم حالت میں ہے۔
عملے کے دو افراد (ایک برطانوی اور ایک ڈچ) میں سانس کی شدید علامات پائی گئی ہیں، جن میں ایک کی حالت معمولی جبکہ دوسرے کی زیادہ خراب ہے۔ ان کے ٹیسٹ ڈکار میں واقع انسٹی ٹیوٹ پاسچر بھیجے گئے ہیں۔
ان دونوں کو ممکنہ طور پر نیدرلینڈز منتقل کیا جائے گا، جسے ترجیح دی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ایک اور شخص کو ہلکا بخار ہوا تھا، تاہم اب وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے اور اس میں کوئی علامات نہیں ہیں۔
ہنٹا وائرس کیا ہے؟
ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں میں پایا جاتا ہے اور انسانوں میں منتقل ہو کر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے خطے میں یہ شدید سانس کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔
اس وائرس کی انسان سے انسان میں منتقلی بہت محدود ہے، تاہم صرف ایک قسم، اینڈیز وائرس، میں دیکھی گئی ہے، جو جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا ابتدائی اندازہ ہے کہ یہی وائرس اس کیس میں شامل ہو سکتا ہے۔

اس وائرس کی علامات ظاہر ہونے کا دورانیہ ایک سے چھ ہفتوں تک ہو سکتا ہے، جس سے اندازہ ہے کہ ڈچ جوڑا جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا۔
اس وائرس کے لیے کوئی ویکسین یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے۔
’ایم وی ہونڈیئس‘
’ایم وی ہونڈیئس‘ ایک ڈچ پرچم بردار جہاز ہے، جو 2019 میں پولر ایکسپیڈیشن سفر کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اسے ’اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز‘ چلاتی ہے۔
یہ جہاز 170 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے، جبکہ اس میں 80 کیبن، 57 عملے کے افراد، 13 گائیڈز اور ایک ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں۔
جہاز کی لمبائی 107.6 میٹر اور چوڑائی 17.6 میٹر ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 15 ناٹ ہے۔
سفر کی تفصیل
جہاز نے 31 مارچ کو انٹارکٹک جزیرہ نما کے سفر سے واپسی کے بعد یکم اپریل کو اوشوایا سے شمال کی جانب سفر شروع کیا۔
اس دوران جہاز نے ساؤتھ جارجیا (پانچ تا سات اپریل)، ٹرستان دا کونہا (13 تا 16 اپریل) اور سینٹ ہیلینا (22 تا 24 اپریل) سمیت کئی مقامات کا دورہ کیا۔

27 اپریل کو سینشن آئی لینڈ سے روانگی کے بعد اب یہ کیپ وردے کے دارالحکومت پرایا کے قریب لنگر انداز ہے۔
جہاز پر موجود صورتحال
عالمی ادارہ صحت کے مطابق مسافروں کو ان کے کیبنز میں الگ تھلگ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ جہاز پر صفائی اور جراثیم کشی کے اقدامات جاری ہیں۔
جہاز کا اگلا پڑاؤ کہاں ہوگا؟
کیپ وردے نے جہاز کو بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق منصوبہ یہ ہے کہ جہاز کو شمال کی جانب سپین کے کینری جزائر لے جایا جائے، جہاں مکمل جراثیم کشی، خطرے کا جائزہ اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم ہسپانوی حکام کے مطابق حتمی فیصلہ جہاز سے موصول ہونے والے طبی ڈیٹا کی بنیاد پر کیا جائے گا۔












