Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دریائے گنگا میں افطار پارٹی، 14 مسامانوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

انڈیا کی ایک عدالت نے دریائے گنگا میں مبینہ طور پر افطار پارٹی منانے اور چکن بریانی کھانے پر 14 مسلمان شہریوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
انڈیا ٹائمز کی رپورٹ میں کیس میں شامل ایک وکیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایڈیشنل سول جج امیت کمار یادو نے جمعرات کے روز سماعت کے دوران ملزموں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
شکایت درج کرانے والے رجت جیسوال کے وکیل شاشنک شیکھر تریپاتھی کا کہنا ہے کہ ملزموں نے ایک ملاح کو دھمکی دی تھی اور اس کی کشتی میں زبردستی سوار ہو کر دریا میں گئے اور وہاں پر افطار پارٹی منائی۔
افطار پارٹی منانے کا یہ واقعہ چند روز قبل ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں پیش آیا تھا۔
ان 14 افراد کو پیر کو ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور اسی روز ہی ان کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی۔
پولیس کی جانب سے بھی واقعے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس میں ملاح اور عینی شاہدین کے بیانات بھی شامل تھے، جس کے بعد ملزموں کے خلاف مزید الزامات شکایت میں شامل گئیں اور ان میں سے ایک اغوا کا بھی تھا۔
جیسوال کی جانب سے شکایت کے بعد مذکورہ افراد کو مذہبی مقام کی بے حرمت اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا۔
مقدمہ بی این ایس کی دفعہ 298 سمیت بعض دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا جو کسی بھی مذہب کرنے اور عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔
اس میں 299 بھی شامل ہے جو مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے سے متعلق ہے۔ اسی طرح دیگر دفعات بھی مذہبی جذبات سے متعلق ہیں جن میں مذہب، نسل، مقام وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ کے نکات شامل ہیں۔

شیئر: