انڈیا میں مندر کے قریب نماز پڑھنے والے پر حملہ، ’مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا‘
انڈیا میں مندر کے قریب نماز پڑھنے والے پر حملہ، ’مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا‘
بدھ 25 فروری 2026 14:31
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)
انڈیا میں مندر کے قریب نماز پڑھنے والے شخص کو کچھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا اور مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
انڈین ایکسپریس نے پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعہ رُدرا پور کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک ادھیڑ عمر شخص نے مندر کے سامنے کھلی جگہ پر نماز پڑھنا شروع کی، جس پر قریب موجود کچھ لوگوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔
واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو لوگوں کو ایک شخص کو ڈنڈوں سے پیٹتے اور برا بھلا کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کا نام شاہد ہے اور وہ ریشم باری کے علاقے کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے جگتپورہ کے علاقے میں قائم ایتریا مندر کے قریب نماز پڑھنا شروع کی۔
شاہد نے وضاحت کی ہے کہ وہ کئی روز سے مندر کے قریب کام کر رہے ہے اور جہاں نماز ادا کی وہ مندر سے کافی دور ہے۔
واقعے کے بعد مسلم کیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد شاہد کے ہمراہ مقامی تھانے پہنچے اور رپورٹ درج کرائی۔
انہوں نے پولیس کو بتایا کہ حملہ کرنے والوں میں سے ایک قتل کا مجرم بھی ہے جو اس وقت پیرول پر جیل سے باہر ہے۔
مندر کے منتظم ارویند شرما کا کہنا ہے کہ مندر کی زمین پر کسی دوسرے مذہب کی کوئی بھی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی چاہے ان کے خلاف مقدمہ ہی کیوں نہ درجہ ہو جائے۔
واقعے کے بعد پولیس حکام موقع پر پہنچے اور دونوں کمیونٹیز سے امن کے ساتھ رہنے کی اپیل کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں (فوٹو: ہندوستان ٹائمز)
پولیس کا کہنا ہے کہ مدعی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھجوایا گیا ہے اور شکایت کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اسی طرح میونسپلٹی کونسلر پرویز قریشی اس واقعے کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق ’یہ بہت زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے اور کسی پر حملہ ناقابل قبول ہے، اگر کسی کو اس پر اعتراض تھا تو انتظامیہ کو مطلع کیا جانا چاہیے تھا۔‘
انہوں نے شفاف انکوائری کا مطالبے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ایسا ضروری ہے۔
اسی طرح کانگریس سے تعلق رکھنے والی رہنما صوفیہ ناز نے واقعے کو معاشرتی رواداری کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
’امن وامان برقرار رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے مذہب کی بنا پر تشدد اور زبردستی نعرے لگوانا آئین کی روح کے خلاف ہے۔ انتظامیہ کو فوری کارروائی کرنی ور متاثرہ شخص کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔‘