پاکستان کے ساتھ عارضی جنگ بندی، افغانستان میں عید کی خوشیاں عروج پر
پاکستان کے ساتھ عارضی جنگ بندی، افغانستان میں عید کی خوشیاں عروج پر
جمعہ 20 مارچ 2026 19:25
افغانستان میں عید کا پہلا دن جمعرات کو تھا، جس کے دوران کابل کے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
جمعہ کے روز کابل میں عید کی خوشیاں عروج پر ہیں، جہاں چند دن پہلے تک بم دھماکوں اور حملوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، اب ان کی جگہ رمضان کے اختتام کی خوشی نے لے لی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق افغان دارالحکومت اس وقت نسبتاً پرسکون ہے کیونکہ افغانستان اور پاکستان نے عید الفطر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل کئی ہفتوں تک جاری مہلک جھڑپوں میں دونوں جانب سے فضائی اور ڈرون حملے کیے گئے اور تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
کابل کے رہائشی ڈاکٹر پاسرلی نے عرب نیوز کو بتایا، ’یہ بہت اچھا ہے کہ ملک کے ہر کونے میں امن ہے۔‘
یہ جنگ بندی سعودی عرب، ترکی اور قطر کی ثالثی میں طے پائی، جو بدھ کی رات بارہ بجے شروع ہوئی اور اگلے پیر کی رات تک جاری رہے گی۔
یہ عارضی جنگ بندی اسی دن نافذ ہوئی جب کابل میں 18 مارچ کو ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کے متاثرین کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
افغان حکام نے اس حملے کا الزام پاکستانی افواج پر عائد کیا ہے، جبکہ اسلام آباد نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی میں ’دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عسکری ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
افغانستان میں عید کا پہلا دن جمعرات کو تھا، جس کے دوران کابل کے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ بارش کے باوجود لوگوں کے جوش و خروش میں کمی نہ آئی۔
کچھ افراد خشک میوہ جات، تازہ پھل، بسکٹ اور مٹھائیاں خرید رہے تھے تاکہ اپنے عزیزوں کے ساتھ عید منائیں، جبکہ دیگر لوگ بچوں اور رشتہ داروں کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتے نظر آئے۔
جہاں پہلے ایمبولینسوں کے سائرن سنائی دیتے تھے، اب وہاں آئس کریم گاڑیوں سے خوشگوار دھنیں سنائی دے رہی تھیں۔ بچے کھلے عام کھیل رہے تھے اور خاندان ایک دوسرے سے عید کی مبارکباد دینے کے لیے سفر کر رہے تھے۔ تاہم ملک کے دیگر حصوں میں حالات مختلف ہیں۔
مشرقی صوبہ کنڑ، جو پاکستان سے ملحق ہے، وہاں سینکڑوں خاندان اب بھی بے گھر ہیں کیونکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مارٹر اور توپ خانے کے گولے دیہات اور شہری گھروں پر گرتے رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان عارضی جنگ بندی گزشتہ ماہ ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد ہوئی۔ (فوٹو: اے پی)
کنڑ کے رہائشی شیر آغا ہیواد نے بتایا، ’کئی علاقوں میں صورتحال اچھی نہیں ہے۔ کل آٹھ افراد مارے گئے۔ ناری، ڈنگام اور شلتان اضلاع میں گولہ باری ہوئی۔‘
کابل میں لوگ عید کی خوشیوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کابل کے ایک پھل فروش لالا نے کہا، ’ہم نے کسی پر جنگ مسلط نہیں کی۔ یہ بیرونی طاقتیں ہیں جو ہمیشہ ہم پر جنگ تھوپتی ہیں۔ اگر کوئی طاقت ہم پر حملہ کرے گی تو ہمیں اپنے ملک اور خود کا دفاع کرنا ہوگا۔ ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے، ہم طاقت کے آگے نہیں جھکیں گے۔‘
یہ عارضی جنگ بندی گزشتہ ماہ ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے، جو حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بدترین لڑائی تھی۔ پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے جنہیں اس نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور جوابی کارروائیاں کیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ ایسے شدت پسندوں کو پناہ دیتی ہے جو اس کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جس کی کابل تردید کرتا ہے۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس ہفتے جنگ بندی کی مدت کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا۔
ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ اور عوام کی جانوں کی حفاظت قومی اور قانونی ذمہ داریاں ہیں، اور کسی بھی خطرے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘