Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خوشی کے لمحات‘ سعودی عرب میں عید کے اجتماعی ناشتے کی قدیم روایت

یہ قدیم روایت سماجی تعلقات اور معاشرے میں یکجہتی کو مضبوط بناتی ہے۔( فوٹو: ایس پی اے)
عید کے اجتماعی ناشتے کی روایت پر آج بھی مملکت کے مختلف علاقوں میں نمایاں سماجی روایات میں سے ایک ہے۔ نماز عید کے بعد خاندان کے تمام افراد اور رشتہ دار عید کے ناشتے پر جمع ہوتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق اس موقع پر خوشی اور مبارکباد کے تبادلے کے ماحول میں روایتی پکوان سے تواضع کی جاتی ہے۔
عید الفطر کی صبح نماز عید کے بعد گھر کی خواتین مہمانوں کی تواضع اور عید کے اجمتاعی ناشتے کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ مہمانوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، گھر ایسے اجتماع کے مقام میں تبدیل ہوجاتے ہیں جہاں جہاں ہر عمر کے خاندان کے افراد اکھٹے ہوتے ہیں۔
یہ قدیم روایت سماجی تعلقات اور معاشرے میں یکجہتی کو مضبوط بناتی ہے۔
خوشی کے ان لمحات کو یادگار بنانے کے حوالے سے اجتماعی ناشتے کی روایت کے بارے میں ٹورسٹ گائیڈ سامی الحارثی نے بتایا ’عید کے ناشتے کی روایت پر آج بھی بیشتر خاندان عمل پیرا ہیں، یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جن کا خاص طور پر بچے بڑی شدت سے انتظار کرتے ہیں۔‘
’ بچوں کے لیے تحائف اورعیدی جبکہ خاندان کے بڑوں کے لیے ایک دسترخوان پر مل بیٹھنے اور روایتی علاقائی پکوانوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ہوتا ہے۔‘

سامی الحارثی کا مزید کہنا تھا’ عید ناشتہ میں پکوانوں کی روایت ہرعلاقے کی مختلف ہوتی ہے، بعض علاقوں میں یہ روایت برسوں سے چلی آرہی ہے۔ عید کے ناشتے میں گوشت چاول پکائے جاتے ہیں جبکہ کہیں بھنی کلیجی اور یخنی کے ساتھ سعودی قہوہ، کھجور اورعریکہ وغیرہ سے تواضع کی جاتی ہے۔‘
یہ ایک طرح سے معاشرتی ثقافتی روایت ہے جس پر آج بھی سعودی معاشرے میں عمل کیا جارہا ہے۔ اس روایت کا مقصد سماجی تعلقات کو مضبوط بنانا اور خوشیوں کو ایک دوسرے سے بانٹنا ہے۔

شیئر: