امریکہ کی ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 دن کی رعایت
پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے عام شہری کی زندگی متاثر ہوئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایران سے سمندر کے راستے خریدے جانے والے تیل پر عائد پابندیوں میں 30 دن کی رعایت (ویور) دی ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے ایکس پر لکھا کہ ’اس فیصلے سے تقریباً 140 ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں آئے گا اور توانائی کی فراہمی پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔‘
عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام وائٹ ہاؤس کی اس تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران پر تقریباً تین ہفتوں سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد خاص طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی کاروبار اور صارفین کو متاثر کرے گا جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکنز کانگریس میں اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے حوالے سے پُرامید ہے۔
ایران جنگ کے دوران تیسری بار پابندیوں میں نرمی
محکمۂ خزانہ کی ویب سائٹ پر مارکیٹ بند ہونے کے بعد جاری کیے گئے اس لائسنس کے مطابق، ضرورت پڑنے پر ایرانی تیل کو امریکہ میں اس رعایت کے تحت درآمد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی فروخت یا ترسیل مکمل کی جا سکے۔
امریکہ نے 1979 کے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران سے تیل کی باضابطہ طور پر درآمد نہیں کی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ رعایت کے بعد ایرانی تیل واقعتاً امریکا پہنچے گا یا نہیں۔
کیوبا، شمالی کوریا اور کریمیا ان علاقوں میں شامل ہیں جنہیں اس لائسنس سے مستثنیٰ حاصل ہیں اور یہ اجازت 19 اپریل تک مؤثر رہے گی۔
اس فیصلے سے ایشیا کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو مشرق وسطیٰ کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
توانائی کے وزیر کرس رائٹ نے کہا کہ ’تیل کی ترسیل تین سے چار دن میں ایشیا پہنچ سکتی ہے اور اگلے ڈیڑھ ماہ میں ریفائننگ کے بعد مارکیٹ میں شامل ہو جائے گی۔‘
چین کی آزاد ریفائنریز پابندیوں کے شکار ایرانی تیل کی سب سے بڑی خریدار رہی ہیں، کیونکہ دیگر خریداروں کے گریز کے باعث چین کو بھاری رعایت حاصل ہوتی رہی ہے۔ 2018 میں امریکی پابندیوں کی بحالی سے قبل انڈیا، جنوبی کوریا، جاپان، اٹلی، یونان، تائیوان اور ترکی بھی ایرانی تیل کے بڑے خریدار تھے۔
گزشتہ دو ہفتوں سے کچھ زیادہ عرصے میں تیسری بار ایسا ہوا ہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے اپنے مخالف ممالک کے تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی رعایت دی ہے۔ یہ اقدامات توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو فی بیرل 100 ڈالر سے تجاوز کر کے سال 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
اس سے قبل امریکہ روسی تیل پر بھی پابندیاں نرم کر چکا ہے اور جمعہ کو ایک عمومی لائسنس جاری کیا گیا جس کے تحت ان جہازوں پر لدا ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی جا سکتی ہیں جو اسی دن تک لوڈ کی گئی تھیں۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ’ہم بنیادی طور پر ایران کے ہی تیل کو تہران کے خلاف استعمال کریں گے تاکہ قیمتیں نیچے رہیں، جبکہ ہم آپریشن ‘ایپک فیوری’ جاری رکھیں گے۔‘
انہوں نے جمعرات کو فوکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہتے ہوئے اس اقدام کا عندیہ دیا تھا کہ پابندیوں کے شکار ایرانی تیل کو عالمی منڈی میں لانے سے 10 سے 14 دن تک قیمتیں نیچے رکھنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ ’ایران کو اس اقدام سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی حاصل کرنے میں مشکل پیش آئے گی اور واشنگٹن ایران اور اس کے بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی پر زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گا۔‘
’اختیارات ختم ہوتے جا رہے ہیں‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ تہران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ریاستوں پر حملے کیے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔
ایران اور خلیجی ممالک میں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر چکا ہے جو دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش میں ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ کے روز جونز ایکٹ شپنگ قانون میں 60 دن کی نرمی کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت عارضی طور پر غیرملکی پرچم بردار جہازوں کو امریکی بندرگاہوں کے درمیان ایندھن، کھاد اور دیگر اشیا منتقل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں، جن میں آبسیڈین رسک ایڈوائزرز کے بریٹ ایرکسن بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ ’قیمتوں پر قابو پانے کی ان کوششوں کا خاطر خواہ اثر اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک آبنائے ہرمز کو جہازوں کے لیے دوبارہ نہیں کھولا جاتا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پابندیوں میں نرمی واشنگٹن کے معاشی ہتھیاروں کے تیزی سے ختم ہونے کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔ ہم اگر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ہم جس ملک سے جنگ لڑ رہے ہیں اسی پر پابندیاں نرم کر رہے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس واقعی اختیارات کم ہوتے جا رہے ہیں۔‘
امریکا نے اس سے قبل سمندر میں پھنسے روسی تیل کی خریداری کے لیے بھی 30 دن کی اجازت دی تھی جس سے پہلے پانچ مارچ کو بھارت کے لیے خصوصی طور پر روسی تیل خریدنے کی ایک ماہ کی اجازت جاری کی گئی تھی۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سی ای او مارک ڈوبووٹز، جو ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے تحقیقی ادارے کے سربراہ ہیں، نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم برسوں سے ایران کی تیل کی صنعت پر پابندیاں لگانے پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک دانش مندانہ اقدام ہے جو حکومت کے خلاف لڑائی جیتنے میں مدد دے گا۔‘