Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خلیجی ممالک سے سپلائی میں رکاوٹ، تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب امریکہ نے ایران کے تیل برآمد کرنے کے مرکز جزیرہ خارگ کے قریب فوجی اہداف پر حملے کیے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی منڈیوں کے پیر کو دوبارہ کھلنے پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کے باعث ماہرین کو خدشہ ہے کہ دنیا کو کئی برسوں کے سب سے بڑی تیل سپلائی کے جھٹکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد خام تیل کی قیمت فی بیرل 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہ سکتی ہے، جس سے طویل المدتی توانائی بحران اور صارفین کی حقیقی آمدنی میں نمایاں کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی جب امریکہ نے ایران کے تیل برآمد کرنے کے مرکز جزیرہ خارگ کے قریب فوجی اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے متحدہ عرب امارات کے ایک بڑے آئل ٹرمینل پر ڈرون حملے کیے۔ اس صورت حال نے خلیجی خطے میں توانائی کی سپلائی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتیں اس ماہ پہلے ہی 40 فیصد سے زائد بڑھ کر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی روک دینا ہے، جہاں سے عام طور پر دنیا کا تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
اس صورت حال کے تناظر میں امریکی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے کہا ہے کہ اس تنازع کے باعث اگر عالمی سطح پر روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل کی کمی پیدا ہوتی ہے تو اسے صرف اسی صورت پورا کیا جا سکتا ہے جب عالمی کھپت میں بھی اتنی ہی کمی آ جائے۔
بینک کے مطابق مشرق وسطیٰ میں فضائی سفر کم ہونے کے باعث روزانہ تقریباً چار لاکھ بیرل طلب میں کمی آئی ہے، تاہم مجموعی عالمی کھپت اب تک زیادہ متاثر نہیں ہوئی۔
جے پی مورگن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگر لوڈنگ جیٹیز، ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور پائپ لائنیں محفوظ رہتی ہیں تو ایران کی برآمدی صلاحیت زیادہ متاثر نہیں ہو گی اور ملک اب بھی روزانہ تقریباً 15 سے 17 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کا امکان عارضی اور احتیاطی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
تاہم تجزیے میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جزیرہ خارگ پر حملہ اس تنازع میں ایک نئی سطح کی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کا ایک اہم ستون اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے قبل ایران نے جزیرہ خارگ سے اپنی تیل برآمدات ریکارڈ سطح کے قریب پہنچا دی تھیں۔ 15 فروری سے 20 فروری کے درمیان روزانہ 30 لاکھ بیرل سے زائد تیل لوڈ کیا گیا، جو عام برآمدی رفتار یعنی 13 سے 16 لاکھ بیرل یومیہ سے تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ممکنہ کشیدگی سے پہلے برآمدات تیز کر رہا تھا۔

جزیرہ خارگ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کپلر کے حوالے سے جے پی مورگن نے بتایا کہ جزیرہ خارگ کی ذخیرہ گاہوں کی گنجائش تقریباً تین کروڑ بیرل ہے، جبکہ اس وقت جزیرے پر تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہے، جو معمول کے حالات میں تقریباً 10 سے 12 دن کی برآمدات کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر جزیرہ خارگ غیرفعال ہو جاتا ہے تو ذخیرہ کرنے کی سہولت ختم ہونے اور متبادل برآمدی راستوں کی کمی کے باعث جنوب مغربی ایران کے بڑے تیل کے میدانوں میں پیداوار روکنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ اس وقت ایران کی پیداوار تقریباً 33 لاکھ بیرل یومیہ جبکہ برآمدات 15 لاکھ بیرل یومیہ کے قریب ہیں، اور اس صورت میں قومی پیداوار کا تقریباً آدھا حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی اس وقت ڈیزل، جیٹ فیول، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور نیفتھا سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے۔
جے پی مورگن کے مطابق جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ تیل کی عالمی منڈی اب سپلائی میں رکاوٹ کے عملی اثرات محسوس کرنا شروع ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قبل خلیج سے روانہ ہونے والے تیل بردار جہاز اب بھی اپنی منزلوں تک پہنچ رہے ہیں، تاہم نئی ترسیلات تقریباً رک چکی ہیں۔

عالمی منڈی اس وقت ڈیزل، جیٹ فیول، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور نیفتھا سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اس کے نتیجے میں ایشیا کے لیے آنے والی سپلائی اس ہفتے کے اختتام تک ختم ہو سکتی ہے جبکہ یورپ کے لیے سپلائی اگلے ہفتے کے آخر تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ نے خبردار کیا کہ اس ہفتے کے اختتام تک عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے فزیکل مارکیٹ میں قلت واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔
دوسری جانب انڈیا میں گھریلو ایل پی جی کی طلب پوری کرنے میں مشکلات کے باعث حکومت نے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کا حکم دیا ہے اور صنعتی فروخت کم کر دی ہے تاکہ گھریلو صارفین کو سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔
سری لنکا میں ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگ گئیں، اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے تاہم ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسی طرح میانمار میں جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث حکومت نے نجی گاڑیوں کے لیے ایندھن کی راشن بندی نافذ کر دی ہے۔

’تاریخی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘

ایک علیحدہ رپورٹ میں توانائی کے تحقیقاتی ادارے رسٹاڈ انرجی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ طویل ہو گئی تو خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر بندش کے باعث خطے کی خام تیل پیداوار میں 70 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔

سری لنکا میں ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اس دوران مشرق وسطیٰ میں روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل و گیس کے مساوی پیداوار بند ہو چکی ہے۔ اس میں سے تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل شامل ہے، جو عالمی سطح پر مجموعی مائع ایندھن کی طلب کا تقریباً سات فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک عراق ہے، جہاں جنگ سے پہلے کی پیداوار کا 60 فیصد سے زائد حصہ متاثر ہو چکا ہے۔
بدترین ممکنہ صورتحال کا اندازہ پیش کرتے ہوئے رسٹاڈ انرجی نے کہا ہے کہ اگر بحران برقرار رہا تو مشرق وسطیٰ میں خام تیل کی پیداوار کم ہو کر تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ سکتی ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 70 فیصد کمی کے برابر ہو گی۔
ادارے میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ریسرچ ڈائریکٹر آدتیہ سرا سوات نے کہا کہ خطے کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے مزید پیداوار میں کمی کو رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھر رہے ہیں، متبادل انفراسٹرکچر اپنی حد کے قریب پہنچ چکا ہے اور تنازع کے جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ روزانہ 60 لاکھ بیرل تک پیداوار گرنے کا امکان مرکزی اندازہ نہیں ہے، تاہم یہ امکان اب بھی موجود ہے۔

اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک عراق ہے، جہاں جنگ سے پہلے کی پیداوار کا 60 فیصد سے زائد حصہ متاثر ہو چکا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)

آدتیہ سرا سوات کے مطابق اگر اور جب یہ بحران ختم ہو گا تو پیداوار کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، کیونکہ اس دوران انفراسٹرکچر کی حالت اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال اہم کردار ادا کریں گی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قریبی مدت میں عرب ہیوی اور عرب میڈیم گریڈ کے تیل کا کوئی مؤثر متبادل موجود نہیں، اور اگر آئندہ چند ہفتوں میں تنازع حل نہ ہوا تو دنیا کو ایک تاریخی سپلائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

شیئر: