سعودی عرب کا ایرانی فوجی عملے کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ، ’واضح‘ حملوں کی شدید مذمت
سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا (فائل فوٹو: عرب نیوز)
سعودی وزارتِ خارجہ نے سنیچر کو بتایا ہے کہ سعودی عرب نے کئی ایرانی فوجی حکام کو ملک بدر کر دیا ہے اور ایران کی جانب سے مملکت اور علاقائی ریاستوں کے خلاف کیے جانے والے ’واضح‘ حملوں کی ایک بار پھر شدید مذمت کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی جانب سے جاری کردہ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری، سویلین انفراسٹرکچر (شہری ڈھانچے)، سفارتی مشنز اور اقتصادی مفادات کو مسلسل نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے بیجنگ معاہدے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 (2026) کی شرائط کے ساتھ ساتھ حسنِ جوار (اچھی ہمسائیگی) اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
مملکت نے سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف ایرانی حملوں کی اپنی ’غیر مشروط مذمت‘ کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ اس کشیدگی کے تعلقات پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق سعودی حکام نے ایرانی سفارت خانے کو مطلع کر دیا ہے کہ ان کے ملٹری اتاشی (عسکری اتاشی)، اسسٹنٹ ملٹری اتاشی اور تین دیگر عملے کے ارکان کو 'ناپسندیدہ شخصیات‘ (persona non grata) قرار دے دیا گیا ہے اور انہیں 24 گھنٹوں کے اندر مملکت چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزارت نے 9 مارچ کو جاری کردہ اپنے سابقہ بیان کی بھی توثیق کی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے جاری حملے مزید کشیدگی کی علامت ہیں جن کا مستقبل کے تعلقات پر ’گہرا اثر‘ پڑے گا۔
سعودی عرب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا حوالہ دیا۔
