ایران کا بحرِ ہند میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ اڈے پر میزائل حملہ: رپورٹ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی میزائل اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے حال ہی میں بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارسیا کے مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈے کی طرف دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی میزائل اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکا جو ایرانی سرحد سے قریباً چار ہزار کلومیٹر دور ہے۔ تاہم اس لانچ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے پاس پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔
پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک میزائل دورانِ پرواز ہی ناکام ہو گیا جبکہ دوسرے کو ایک امریکی جنگی جہاز سے فائر کیے گئے انٹرسیپٹر (شکاری میزائل) کے ذریعے نشانہ بنایا گیا البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ میزائل تباہ ہوا یا نہیں۔
جزائر چاگوس میں واقع ڈیاگو گارسیا ان دو اڈوں میں سے ایک ہے جسے برطانیہ نے امریکہ کو ایران کے خلاف ’دفاعی‘ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
امریکی افواج نے اس اڈے پر بمبار طیارے اور دیگر سازوسامان تعینات کر رکھا ہے،جو ایشیا میں کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔
ماضی میں اسے افغانستان اور عراق میں امریکی بمباری کی مہمات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
برطانیہ نے سنہ 1960 کی دہائی سے اپنے قبضے میں رہنے والے جزائر چاگوس کو ماریشس کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم ان جزائر میں سے سب سے بڑے جزیرے ’ڈیاگو گارسیا‘ پر فوجی اڈے کے لیے لیز برقرار رکھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جزائر کی واپسی کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔
