افغانوں کو اپنے ملک واپس بھیجنے کے حوالے سے بات چیت: افغان طالبان کا وفد برسلز کا دورہ کرے گا
یورپی کمیشن نے ابھی تک طالبان حکام کو باضابطہ دعوت نامہ نہیں بھیجا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
طالبان حکام آئندہ چند ہفتوں میں برسلز پہنچیں گے جہاں یورپی یونین سے افغانوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے معاملے پر مذاکرات ہوں گے
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین اُن افراد کو، جنہیں یورپ میں رہنے کا حق حاصل نہیں، افغانستان واپس بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، حالانکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین ادارے نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طالبان حکام کا یہ دورہ اس سے قبل یورپی حکام کے افغانستان کے دو دوروں کے بعد ہو رہا ہے جس میں اس معاملے پر ابتدائی بات چیت کی گئی تھی۔
اس دورے کو یورپی کمیشن اور کئی رکن ممالک منظم کر رہے ہیں۔
ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا، ’خیال یہ ہے کہ انہیں گرمیوں سے پہلے مدعو کیا جائے۔‘
ان کے مطابق طالبان وفد ایک تکنیکی ٹیم پر مشتمل ہوگا۔
ایک اور ذریعے کے مطابق جو ان مذاکرات میں شامل ہے، یورپی حکام پروازوں، کابل ایئرپورٹ کی گنجائش کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں، اور طالبان سے بات کر رہے ہیں کہ واپس بھیجے جانے والے افراد کے ساتھ کیا ہوگا۔
یورپی کمیشن نے ابھی تک طالبان حکام کو باضابطہ دعوت نامہ نہیں بھیجا ہے۔
ڈیپورٹیشن میں اضافہ یورپی یونین کے ممالک میں ایک عام مطالبہ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ ہجرت کے بارے میں عوامی رائے میں سختی آنے سے 27 رکنی بلاک میں دائیں بازو کی جماعتوں کو انتخابی فائدہ ہو رہا ہے۔
تقریباً 20 یورپی ممالک اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ افغانوں کو کیسے واپس بھیجا جائے خاص طور پر ان افراد کو جو جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
جرمنی نے اس عمل کا آغاز کر دیا ہے اور 2024 سے اب تک 100 سے زائد افغانوں کو قطر کی سہولت سے چارٹر پروازوں کے ذریعے واپس بھیجا ہے۔ آسٹریا نے بھی اسی طرز پر اقدامات کیے ہیں۔
