غزہ میں امداد کی مکمل اور بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنایا جائے: سعودی عرب
’دو ریاستی حل‘ کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا اجلاس برسلز میں ہوا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے نمائندے نے پیر کو برسلز میں دو ریاستی حل کے بارے میں ایک کانفرنس میں غزہ میں انسانی امداد کی مکمل اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
سعودی عرب اور ناروے کی مشترکہ صدارت اور یورپی یونین کے زیر اہتمام ’دو ریاستی حل‘ کے نفاذ کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد کے 9 واں اجلاس برسلز میں ہوا۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق برسلز اجلاس میں 83 ملکوں اور انٹرنیشنل تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سعودی عرب کی نمائندگی ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان نے کی۔
ڈاکٹر منال رضوان نے اپنے خطاب میں کہا ’موجودہ چیلنجوں میں سے ایک نازک جنگ بندی کو پائیدار اور مستقل امن کی جانب لے جانے کا ہے۔‘
’سلامتی اور سیاسی حل ایک دوسرے جدا نہیں کیے جاسکتے، کسی قابلِ اعتماد سیاسی افق کے بغیر کوئی بھی استحکام عارضی اور نا پائیدار ہوگا۔‘
انہوں نے فلسطینی حکموت کے اصلاحاتی پروگرام کے لیے مملکت کی مکمل سپورٹ کا اعادہ کیا، جو غزہ میں اس کی واپسی کا راستہ ہموار کرے گا، غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد کو برقرار رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’استحکام خودمختاری کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ ہتھیار ڈالنے کے مسئلے کو ایک وسیع سیاسی و ادارہ جاتی فریم ورک کے تحت حل کیا جانا چاہئے، جو قانونیت پر مبنی ہو اور جس کا حتمی مقصد فلسطینی ریاست کا قیام ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مغربی کنارے میں ’خطرناک حد تک کشیدگی‘ دوریاستی حل کو خطرے میں ڈالتی ہے، فلسطینی شہریوں کا تحفظ استحکام کے حصول کی کسی بھی کوشش کا بنیادی جزو ہے۔‘
بین الاقوامی فورس کا کردار وقتی اور فلسطینی اداروں کی معاونت کرنے والا ہونا چاہیے نہ کہ ان کی جگہ لینے والا۔
انہوں نے مزید کہا ’پائیدار امن کے حصول کے لیے جامع فریم ورک کی ضرورت ہے، جو مشترکہ سلامتی کے مسائل کو حل کرے، خودمختاری کا احترام کرے اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکے۔
‘سعودی سفارتکار کا یہ بھی کہنا تھا ’خطے کی سلامتی، فلسطینی سلامتی سے الگ نہیں ہے۔‘
’ سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803، جامع منصوبہ اور امن کونسل کی کاوشوں کی حمایت، جنگ بندی، انسانی امداد، سکیورٹی اور تعمیرِ نو کے مختلف پہلووں کو ایک مربوط فریم ورک میں ہم آہنگ کرنے کا حقیقی موقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ’ مملکت‘ ان تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے، جو تحفظ، قانون کی حکمرانی اور فلسطینی اداروں کی صلاحیت میں اضافے کو فروغ دیں، جن میں پولیس اور عدالتی شعبوں کی معاونت شامل ہے۔‘
’کسی بھی طرح کے سکیورٹی انتظامات اس وقت تک دیرپا نہیں ہوسکتے جب تک بین الاقوامی قانون کا احترام اور ان کی پاسداری نہ کی جائے۔‘
اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر منال رضوان نے کہا کہ ’نیویارک اعلامیہ‘ ایک اہم حوالہ ہے جو سکیورٹی انتظامات کو ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے ساتھ جوڑتا ہے، جس کا مقصد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔‘
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ’استحکام کی کوئی بھی کوشش 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونی چاہیے، جس کا دار الحکومت بیت المقدس ہو۔ سعودی عرب اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر منصفانہ اور جامع امن کے حصول کے لیے کام جاری رکھے گا۔‘
