Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ نیا معاہدہ پرانے سے بہتر ہوگا: صدر ٹرمپ

رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ جوہری معاہدہ جو ایران کے ساتھ طے کر رہا ہے، وہ 2015 میں طے پانے والے بین الاقوامی معاہدے سے بہتر ہوگا، جس کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق  صدر ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین ڈیموکریٹس  پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’جو معاہدہ ہم ایران کے ساتھ کر رہے ہیں وہ جے سی پی او اے سے کہیں بہتر ہوگا، جسے عام طور پر ’ایران جوہری معاہدہ‘ کہا جاتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا بیان ڈیموکریٹس اور بعض جوہری ماہرین کی جانب سے اس تنقید کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا جا رجا ہے کہ وہ ایک نہایت پیچیدہ معاملے پر مذاکرات میں جلد بازی کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں تاکہ ایران کے حوالے سے ہماری مضبوط پوزیشن کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
’اگرچہ پہلی عالمی جنگ چار سال، تین ماہ اور 14 دن تک جاری رہی، دوسری عالمی جنگ چھ سال اور ایک دن تک، کورین جنگ تین سال، ایک ماہ، ویتنام جنگ 19 سال، 5 ماہ اور 29 دن تک، اور عراق جنگ 8 سال، 8 ماہ اور 28 دن تک جاری رہی، پھر بھی وہ یہ کہنا پسند کرتے ہیں کہ میں نے ایران کو شکست دینے کے لیے 6 ہفتوں کا وعدہ کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ فوجی نقطۂ نظر سے یہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو سکتا تھا، لیکن میں امریکہ کو کسی ایسے معاہدے میں جلد بازی سے داخل نہیں ہونے دوں گا جو بہترین نہ ہو۔‘
خیال رہے صدر ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ان کے نمائندے (نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں) ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں اور وہ پیر کو وہاں موجود ہوں گے۔
لیکن ابھی تک اس حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے کہ آیا جے ڈی وینس اور امریکی وفد کے دیگر ارکان اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے ہیں یا نہیں۔

ایران نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ (فوٹو: روئٹرز)

 دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اس نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران کے بیان نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی کوششوں پر غیر یقینی کے بادل منڈلا دیے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جس کی مدت منگل کو ختم ہو رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا، ’ہمارا اگلے دور کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کا رویہ کسی بھی طرح سفارتی عمل کی پیروی میں سنجیدگی ظاہر نہیں کرتا۔‘ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور حال ہی میں ایک جہاز قبضے میں لینے کو ’جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

 

شیئر: