Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی جوہری تنصیبات کے قریب شہروں میں ایرانی میزائل حملے، 100 سے زائد زخمی، ہر طرف افراتفرای

اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام کی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی طبی عملے نے کہا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے دو شہروں دیمونا اور اراد پر ایران کے میزائل حملوں میں ہفتے کے روز 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ان میزائل حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
ان دو براہِ راست حملوں نے رہائشی عمارتوں کے اگلے حصے تباہ کر دیے اور زمین میں گہرے گڑھے بنا دیے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق شہر اراد میں 75 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 10 کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل قریبی شہر دیمونا میں ہونے والے میزائل حملے میں 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ ’ایران کے جوہری مرکز نظنر پر اس سے قبل کیے گئے اسرائیلی حملے کے ‘جواب‘ میں دیمونا پر میزائل حملہ کیا گیا جہاں ایک جوہری تنصیب موجود ہے۔‘
اے ایف پی کی جانب سے اراد سے حاصل کردہ ایک ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں سے زخمیوں کو ریسکیو کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
جائے وقوعہ پر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موجود تھیں اور درجنوں ایمرجنسی سروسز اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
فائر فائٹرز کے مطابق دیمونا اور اراد دونوں شہروں میں ایرانی میزائلوں پر انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے، لیکن وہ اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے، جس کے باعث سینکڑوں کلوگرام وزنی وارہیڈز کے حامل بیلسٹک میزائلوں کے دو براہِ راست کامیاب حملے ہوئے۔‘
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’فضائی دفاعی نظام فعال تھا مگر میزائلوں کو روک نہ سکا، ہم اس واقعے کی تحقیقات کریں گے اور اس سے آئندہ کے لیے سبق سیکھیں گے۔‘
مقامی فائر سروس کے مطابق اراد میں ’بڑے پیمانے پر تباہی‘ ہوئی ہے، جہاں تین عمارتیں متاثر ہوئیں اور ان میں سے ایک میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔
اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام کی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے
امدادی کارکنوں کے مطابق ’10 زخمیوں کی حالت تشویش ناک، 13 کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں جبکہ 48 کو معمولی زخم آئے ہیں۔‘
طبی ماہر ریاض ابو عجاج نے تنظیم کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں حملے کی جگہ پر ’بڑے پیمانے پر تباہی‘ ہونے کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جائے وقوعہ پر شدید افراتفری مچی ہوئی تھی۔‘

اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام کی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

یہ امدادی کارروائیاں دیمونا میں اسی نوعیت کی تباہی کے کچھ ہی دیر بعد شروع ہوئیں، جو جنوب مغرب میں تقریباً 25 کلومیٹر (15 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ زمین میں ایک بڑا گڑھا بن چکا تھا، جس کے اطراف میں ملبے اور تباہ شدہ دھات کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔
اردگرد کی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں اور ان کے اگلے حصے بری طرح متاثر ہوئے تھے جبکہ امدادی کارکن جائے وقوعہ کی چھان بین کر رہے تھے۔
طبی عملے کے مطابق دیمونا میں 33 زخمیوں کا علاج کیا گیا، جن میں ایک 10 سالہ لڑکا بھی شامل تھا جو شیل کے ٹکڑوں سے زخمی ہوا اور اس کی حالت تشویش ناک تھی لیکن وہ ہوش میں تھا۔

مقامی فائر سروس کے مطابق اراد میں ’بڑے پیمانے پر تباہی‘ ہوئی ہے جہاں تین عمارتیں متاثر ہوئیں (فائل فوٹو: روئٹرز)

دیمونا میں ایک ایسی جوہری تنصیب موجود ہے جسے بڑے پیمانے پر مشرقِ وسطیٰ کے واحد جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا حامل سمجھا جاتا ہے، اسرائیل نے اگرچہ کبھی جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف نہیں کیا۔
اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ابہام کی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، اور سرکاری طور پر اس جوہری تنصیب کا مقصد تحقیقی مقاصد بتایا جاتا ہے۔
ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکا-اسرائیل حملوں کے جواب میں روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان حملوں کو ’ایک بہت مشکل وقت‘ قرار دیتے ہوئے ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے جاری رکھنے کے عزائم کا اظہار کیا۔

 

شیئر: