Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سنہ 2025 میں پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ فضائی آلودگی والا ملک بن گیا

رپورٹ کے مطابق 143 میں سے 130 ممالک عالمی ادارہ صحت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نئی تحقیق کے مطابق پاکستان کو سال 2025 میں دنیا کا سب سے زیادہ فضائی آلودگی والا ملک قرار دیا گیا ہے جہاں خطرناک ذرات پی ایم 2.5 کی سطح عالمی معیار سے 13 گنا تک زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
سوئٹزرلینڈ کی ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کمپنی (آئی کیو ایئر) کی سالانہ رپورٹ کے مطابق پی ایم 2.5 وہ باریک ذرات ہوتے ہیں جو ایندھن کے جلنے، صنعتی اخراج اور جنگلاتی آگ سے پیدا ہوتے ہیں۔
روئیٹرز کے مطابق یہ ذرات انسانی پھیپھڑوں اور خون میں داخل ہو کر دل اور سانس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ قبل از وقت اموات کا سبب بنتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف 13 ممالک ایسے تھے جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار یعنی پانچ مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے کم رہی، جبکہ سنہ2024 میں یہ تعداد صرف سات تھی۔
پاکستان کے بڑے شہر بھی شدید فضائی آلودگی کا شکار رہے۔ کراچی میں 29 ستمبر 2025 کو ایئر کوالٹی انڈیکس 100 سے تجاوز کر گیا، جو حساس افراد کے لیے غیر صحت بخش قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح حیدرآباد اور لاہور میں بھی ہوا کے معیار کے مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
دنیا کے 25 سب سے آلودہ ترین ممالک میں انڈیا، پاکستان اور چین شامل ہیں۔ انڈیا کا شہر لونی سنہ2025 میں سب سے زیادہ آلودہ قرار پایا جہاں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 112.5 مائیکروگرام رہی، جبکہ چین کے علاقے ہوتان دوسرے نمبر پر رہا۔
آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں بنگلہ دیش اور تاجکستان بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 143 میں سے 130 ممالک عالمی ادارہ صحت کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے، جبکہ دنیا کے صرف 14 فیصد شہر ہی 2025 میں اس معیار پر پورے اترے، جو گزشتہ سال کے 17 فیصد سے کم ہے۔

دنیا کے 25 سب سے آلودہ ترین ممالک میں انڈیا، پاکستان اور چین شامل ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

کینیڈا میں جنگلاتی آگ کے باعث امریکہ اور یورپ تک فضائی آلودگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
چند ممالک جیسے آسٹریلیا، آئس لینڈ، ایسٹونیا اور پاناما نے عالمی معیار کو برقرار رکھا۔
دوسری جانب لاؤس، کمبوڈیا اور انڈونیشیا میں لا نینا موسم کے باعث بارشوں اور ہواؤں میں اضافے سے آلودگی میں کمی آئی، جبکہ منگولیا میں پی ایم 2.5 کی سطح میں 31 فیصد کمی دیکھی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چاڈ جو سنہ2024 میں سب سے زیادہ آلودہ ملک تھا، 2025 میں چوتھے نمبر پر آ گیا تاہم اس کمی کی بڑی وجہ ڈیٹا کی کمی ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ امریکہ نے گزشتہ سال اپنے عالمی مانیٹرنگ پروگرام کو بجٹ کی کمی کے باعث بند کر دیا، جس کے باعث کئی ممالک کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں رہے۔ اسی وجہ سے برونڈی، ترکمانستان اور ٹوگو کو سنہ2025 کی رپورٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔
مجموعی طور پر 75 ممالک میں فضائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی جبکہ 54 ممالک میں پی ایم 2.5 کی سطح مزید بڑھ گئی، جو عالمی سطح پر بڑھتے ماحولیاتی خطرات کی نشاندہی کرتی ہے۔

شیئر: