کیا وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے؟
کیا وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے؟
بدھ 25 مارچ 2026 10:22
ادویات اگر مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو سنگین مضر اثرات اور صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی وزارت صحت نے وزن کم کرنے والی ادویات کے غیر منظم استعمال کے حوالے سے خبردار کیا ہے کیونکہ اوزیمپک جیسی معروف ذیابیطس ادویات کے سستے جنیرک متبادل پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سیماگلوٹائڈ، جو اوزیمپک اور ویگووی جیسی وزن کم کرنے والی ادویات کا فعال جزو ہے، کا پیٹنٹ 20 مارچ کو انڈیا میں ختم ہو گیا، جس کے بعد مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس کی اپنی تیار کردہ اقسام بنا کر کم قیمت پر فروخت کر سکتی ہیں۔
متعدد کمپنیوں نے خون میں شوگر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون سے منسوب جی ایل پی-1 ادویات کے جنیرک ورژن تیار کر کے انڈیا کی معروف فارمیسیز پر دستیاب کر دیے ہیں، جہاں ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 15 ڈالر سے شروع ہو رہی ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ ’جی ایل پی-1 پر مبنی وزن کم کرنے والی ادویات کے متعدد جنیرک متبادل حال ہی میں انڈین مارکیٹ میں متعارف کرائے گئے ہیں، جس کے بعد ریٹیل فارمیسیز، آن لائن پلیٹ فارمز، ہول سیلرز اور ویلنَس کلینکس کے ذریعے ان کی باآسانی دستیابی پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ’یہ ادویات اگر مناسب طبی نگرانی کے بغیر استعمال کی جائیں تو سنگین مضر اثرات اور صحت کے خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔‘
ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نووو نورڈسک‘ کی جانب سے 2017 میں تیار کی جانے والی دوا اوزیمپک ابتدائی طور پر ذیابیطس کے علاج کے لیے منظور کی گئی تھی تاہم بعد میں وزن کم کرنے میں موثر ثابت ہونے کے باعث عالمی سطح پر اس کی طلب میں اضافہ ہوا۔
اوزیمپک ڈنمارک کی دوا ساز کمپنی ’نووو نورڈسک‘ نے 2017 میں تیار کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
کئی برسوں تک نوو نورڈسک کے پاس اس دوا کا فعال جزو ’سیماگلوٹائڈ‘ کا پیٹنٹ موجود رہا جو گزشتہ ہفتے ختم ہو گیا۔
انڈیا میں، جہاں چین کے بعد دنیا میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کی دوسری بڑی تعداد موجود ہے اور موٹاپے کی شرح بھی بڑھ رہی ہے، اوزیمپک کی اصل دوا کی ایک ہفتہ وار خوراک کی قیمت 20 سے 50 ڈالر کے درمیان ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکہ میں یہی قیمت تقریباً 220 ڈالر جبکہ یورپ میں لگ بھگ 30 ڈالر ہے۔
اگرچہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس دوا کی منظوری اس شرط کے ساتھ دی گئی ہے کہ اسے صرف اینڈوکرائنولوجسٹ اور میڈیسن کے ماہرین کے نسخے پر استعمال کیا جائے جبکہ بعض صورتوں میں ماہر امراض قلب بھی اسے تجویز کر سکتے ہیں تاہم اس پر عمل درآمد کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
تیرونیلویلی میڈیکل کالج کے پروفیسر جے اے جے لال نے کہا کہ انڈیا میں فی الحال اس حوالے سے ’مجموعی نگرانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔‘
طبی ماہرین کے مطابق انڈیا میں موٹاپا ایک سنگین مسئلہ ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہاکہ ’یہ ادویات آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے دستیاب ہیں، جو ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ اگر انہیں مناسب طبی نگرانی اور دیکھ بھال کے بغیر استعمال کیا گیا تو یہ متعدد پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔‘
تاہم انڈین حکام کے مطابق اس وقت فارماسیوٹیکل سپلائی چین میں ممکنہ بے ضابطگیوں کو روکنے اور غیر مجاز فروخت و استعمال کی روک تھام کے لیے ’ہدفی اقدامات کا ایک سلسلہ‘ شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مریضوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ طبی نگرانی کے بغیر وزن کم کرنے والی ادویات کا غلط استعمال سنگین طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایسی ادویات صرف مستند طبی ماہرین کی رہنمائی میں استعمال کریں۔‘