حزب اللہ کے خلاف فوجی مہم ابھی مکمل نہیں ہوئی: اسرائیلی وزیرِ دفاع
حزب اللہ کے خلاف فوجی مہم ابھی مکمل نہیں ہوئی: اسرائیلی وزیرِ دفاع
جمعہ 17 اپریل 2026 17:06
اسرائیل کاتز نے کہا کہ ’لبنان میں زمینی کارروائی اور حزب اللہ پر حملوں سے ہمیں کئی کامیابیاں ملی ہیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی نافذ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ ’عسکریت پسند گروہ حزب اللہ کے خلاف جاری مہم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔‘
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو وہ بے گھر افراد جو جنگ سے تباہ حال جنوبی لبنان میں واپس جا رہے ہیں، انہیں ایک بار پھر نقل مکانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے جمعے کو ایک نشریاتی بیان میں کہا کہ ’لبنان میں زمینی کارروائی اور حزب اللہ پر حملوں سے ہمیں کئی کامیابیاں ملی ہیں، لیکن یہ مہم ابھی مکمل نہیں ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جنوبی لبنان کے کچھ علاقے ابھی تک حزب اللہ کے جنگجوؤں سے خالی نہیں کرائے جا سکے، اور یہ کام کسی نہ کسی طریقے سے کرنا ہوگا۔‘
اسرائیل کاتز نے خبردار کیا کہ ’اس وقت ہمارے کنٹرول میں موجود سکیورٹی زون اور دریائے لیتانی کی حد بندی کی لائن کے درمیان کا علاقہ ابھی تک دہشت گردوں اور اسلحے سے مکمل طور پر صاف نہیں کیا جا سکا۔‘
’یہ کام یا تو سفارتی ذرائع سے مکمل کیا جائے گا یا پھر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کی کارروائیوں کے ذریعے جاری رکھا جائے گا۔‘
اسرائیلی وقت کے مطابق آدھی رات کو جنگ بندی نافذ ہوتے ہی ہزاروں بے گھر لبنانی شہری اپنے گھروں کو واپس جانے کی امید میں جنوب کی جانب روانہ ہو گئے۔
تاہم اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ’اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو انہیں ایک بار پھر وہاں سے نکلنا پڑ سکتا ہے۔‘
اسرائیل یہ کہہ چکا ہے کہ وہ سرحد کے ساتھ قائم 10 کلومیٹر طویل سکیورٹی زون کو برقرار رکھے گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے کہا کہ ’لڑائی اگر دوبارہ شروع ہوتی ہے تو جو لوگ سکیورٹی زون میں واپس آئیں گے، انہیں مشن کی تکمیل کے لیے دوبارہ نکالنا پڑے گا۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری جنگ بندی کی تفصیلات کے مطابق اسرائیل کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ ’منظم، اور جاری حملوں‘ کو روکنے کے لیے حزب اللہ کو نشانہ بناتا رہے۔
اسرائیل کی افواج جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر قابض ہیں، اور وہ یہ کہہ چکا ہے کہ ’وہ سرحد کے ساتھ قائم کردہ 10 کلومیٹر (چھ میل) کے سکیورٹی زون کو برقرار رکھے گا۔‘
اسرائیل کاتز نے کہا کہ ’سکیورٹی زون کو جنگجوؤں اور اسلحے سے پاک کر دیا گیا ہے، وہاں سے شہریوں کو نکال دیا گیا ہے، اور اسے دہشت گردی کے ڈھانچے سے صاف کرنے کا عمل جاری رہے گا، جس میں اگلے مورچوں پر واقع دیہات میں گھروں کو مسمار کرنا بھی شامل ہے، جو عملی طور پر دہشت گردی کے ٹھکانے بن چکے ہیں۔‘
جنگ بندی کی تفصیلات کے مطابق لبنان ’بین الاقوامی تعاون کے ساتھ حزب اللہ کو اسرائیلی اہداف پر کسی بھی حملے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا۔‘