Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے آبنائے ہُرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دی ہے: وزیر خارجہ عباس عراقچی

آبنائے ہُرمز کھولنے کا اعلان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ’ایکس اکاؤنٹ‘ پر کیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
لبنان میں جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک بیان میں بتایا کہ ’آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔‘
’آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کے دوران پہلے سے طے شدہ راستوں سے جہازوں کی آمدورفت جاری رہے گی اور جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے کھلی رہے گی۔‘
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا ہے اور جہازوں کی مکمل آمدورفت کے لیے تیار ہے۔ شکریہ۔
بعدازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کے لیے امریکی ناکہ بندی اس وقت تک ’مکمل طور پر برقرار رہے گی‘ جب تک ایران امریکہ کے ساتھ، خاص طور پر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے، کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا۔
ایران کے آبنانے ہُرمز کھولنے کے اعلان کے باوجود ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ غالباً ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ گذشتہ ہفتے طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا مستقبل غیریقینی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’معاہدہ ہونے تک ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید پرعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو توانائی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد ایرانی افواج نے آبنائے ہُرمز کو ہر قسم کے جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کردیا تھا۔
آبنائے ہُرمز کو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث اس کی بندش کے خدشات نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر رکھی تھی۔

شیئر: