انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایرانی عوام کے لیے ’سونے کے زیورات اور تانبے کے برتن‘
عیدالفطر کے بعد امداد جمع کرنے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے: فوٹو روئٹرز
ایران سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلمان شہری ایرانی عوام کے لیے امداد جمع کر رہے ہیں۔
مقامی افراد کی جانب سے دی جانے والی امداد میں نقد رقم کے علاوہ سونا، مویشی اور حتیٰ کہ گھروں میں استعمال ہونے والے برتن بھی شامل ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق کمیونٹی رہنما اور بزرگ شہریوں نے امدادی سٹال قائم کر رکھے ہیں جبکہ نوجوان رضاکار گھر گھر جا کر چندہ جمع کر رہے ہیں۔
خواتین اپنے سونے کے زیورات، چوڑیاں اور بالیاں عطیہ کر رہی ہیں۔ بہت سے گھرانے اپنے تانبے کے برتن یا مویشی عطیہ کر رہے ہیں جبکہ بڑوں کے علاوہ بچے اپنے جمع کیے ہوئے پیسے لا رہے ہیں۔
کچھ افراد نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے رواں ماہ قائم گئے ریلیف فنڈ میں نقد رقوم بھیج رہے ہیں۔
نوجوان شازیہ بتول کے مطابق ’میرا دل ایران کے ساتھ ہے اور میں اپنی سونے کی واحد بالیاں عطیہ کر رہی ہوں۔ مدد بھیجنا کم از کم ایک ایسی چیز ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔‘
عیدالفطر کے بعد امداد جمع کرنے کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رضاکار مقصود علی کے مطابق ’صرف دعوتوں اور خاندانی میل جول تک محدود رہنے کے بجائے اس بار بہت سے افراد نے اس تہوار کو نیک مقصد کے لیے استعمال کیا۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔