ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے ’تحفہ‘ دیا ہے: صدر ٹرمپ
انہوں نے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔(فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ ’ایران نے انہیں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک ’بہت بڑا تحفہ‘ دیا ہے، جس سے ان کا اعتماد بڑھا ہے کہ وہ تہران میں درست لوگوں سے بات کر رہے ہیں تاکہ جنگ ختم کی جا سکے۔‘
عرب نیوز کے مطابق یہ مبہم اعلان اس کے ایک دن بعد سامنے آیا، جب ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر ایران کے بجلی گھروں پر حملوں کی دھمکی کو موخر کردیا اور کہا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بننے کی تردید کی ہے، جنگ جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، اس نے سٹریٹیجک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل کی رسد کو متاثر کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے نئے سیکرٹری مارک وین مولن کی حلف برداری تقریب میں کہا ’یہ ’تحفہ‘ بہت اہم تھا۔ انہوں نے مزید کہا ’یہ تیل و گیس سے متعلق تھا۔‘
اس سوال پر کہ کیا اس کا تعلق ایران سے آبنائے ہرمز کو آ ئل ٹریفک کے لیے دوبارہ کھولے جانے کے مطالبے سے ہے، ٹرمپ نے اثبات میں جواب دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ’تحفہ‘ کے جوہری پروگرام سے متعلق نہیں تھا تاہم انہوں نے اس دعوے کو دہرایا کہ ایران اس بات پر متفق ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی کی جنگ کے خاتمے کےلیے ایران سے مذاکرات ’ابھی‘ جاری ہیں۔
انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو بتایا نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرخارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شامل ہیں۔
