ٹرمپ کے مذاکرات کی تردید کے بعد ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل حملے
منگل کی صبح، ایرانی کی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ اسرائیل پر میزائل داغے گئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے منگل کے روز اس وقت اسرائیل پر نئے میزائل داغے جب چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ ’بہت اچھے‘ مذاکرات ہونے کا اعلان کیا۔
تاہم تہران نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ کے پیر کو اس اچانک اعلان نے عالمی مارکیٹوں کو مثبت طور پر متاثر کیا اور تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے ایران کو ہرمز کے تنگ سمندری راستے کو دوبارہ کھولنے کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر ہرمز کو نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کرے گا۔
صد ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک ’اعلیٰ شخصیت‘ سے بات کر رہی ہے، اور خبردار کیا کہ اگر اگلے پانچ دنوں میں مذاکرات ناکام ہوئے تو ’ہم صرف بمباری جاری رکھیں گے۔‘
اخبار ایگزیوس کے مطابق، ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ کا یہ رابطہ محمد باقر قالیباف کے ساتھ تھا، جو ایران کے پارلیمان کے سپیکر اور سب سے نمایاں شخصیات میں سے ایک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکرات کار سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے پاکستان میں ایرانی وفد سے مذاکرات کر سکتے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے ان رپورٹس کی تردید نہیں کی، اور کہا ’ملاقاتوں کے بارے میں قیاس آرائی کو حتمی نہ سمجھا جائے جب تک کہ وائٹ ہاؤس باضابطہ اعلان نہ کرے۔‘
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے بات کی اور علاقائی امن کے لیے اسلام آباد کی مدد کا وعدہ کیا۔
لیکن قالیباف نے ایکس پر کہا کہ ’کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے،‘ اور اصرار کیا کہ ٹرمپ مالی اور تیل کی مارکیٹوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے کہا کہ کچھ دوستانہ ممالک سے پیغامات آئے جن میں کہا گیا کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے، لیکن ایران نے ان مذاکرات کی تردید کی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ سے بات کی ہے اور واشنگٹن ممکنہ معاہدے کے بارے میں پرامید ہے، لیکن اسرائیل کی حفاظت کے لیے ایران اور لبنان پر حملے جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ٹرمپ کا خیال ہے کہ آئی ڈی ایف اور امریکی فوج کی شاندار کامیابیوں کو کسی معاہدے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
منگل کی صبح، ایرانی کی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ اسرائیل پر میزائل داغے گئے، اور وہاں کی ریسکیو سروسز نے شمال میں ایک عمارت کے نقصان کی تصاویر دکھائیں۔
لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ بتایا کہ اسرائیل نے جنوب بیروت میں سات فضائی حملے کیے۔
پیر کو، ایران کے پڑوسی ممالک نے اس وقت سکون کا سانس لیا جب صدر ٹرمپ نے ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے۔
تہران نے جواباً خلیج میں سمندری کنٹینرز اور توانائی و پانی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی، جو پہلے ہی تاریخی توانائی کے بحران کو بڑھا سکتی تھی۔
