’پاکستان ایران تنازع میں کلیدی ثالث بن سکتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط‘
’پاکستان ایران تنازع میں کلیدی ثالث بن سکتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط‘
منگل 24 مارچ 2026 16:50
فیصل عباس کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت اسے اس تنازع میں ایک اہم ثالث بنا سکتی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کے سب سے بڑے انگریزی اخبار عرب نیوز کے ایڈیٹر ان چیف فیصل عباس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اس وقت غیر معمولی طور پر مضبوط ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خلیجی خطے میں حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جو ممکنہ سفارتی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتی ہے۔ تاہم فریقین کھل کر مذاکرات کی خواہش ظاہر کرنے سے گریزاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ میں سب سے پہلے سچ متاثر ہوتا ہے اور اس وقت تمام فریق اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر ایران۔‘
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطے میں ہے اور پاکستان میں ممکنہ ملاقات کی کوششیں جاری ہیں تاہم ایرانی قیادت نے ایسے کسی بھی مذاکرات کی تردید کی ہے۔
فیصل عباس کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی حیثیت اسے اس تنازع میں ایک اہم ثالث بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور اسے سعودی عرب اور امریکہ دونوں کا اعتماد حاصل ہے، اس لیے اسلام آباد میں مذاکرات کی کوششیں منطقی دکھائی دیتی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور وہ چند رہنماؤں میں شامل ہیں جن کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو سعودی عرب اور امریکہ میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جس سے پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور وہ کسی بھی ممکنہ عدم استحکام کے اثرات سے بچنے کے لیے تنازع کے خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے بیان سے یہ واضح ہے کہ ’سعودی عرب کا صبر لامحدود نہیں‘: فیصل عباس (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کا مؤقف
فیصل عباس نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے حالیہ بیانات میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے تاہم وہ کسی ایسے اقدام سے گریز کرے گا جو سفارتی عمل کو متاثر کرے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے بیان سے یہ واضح ہے کہ ’سعودی عرب کا صبر لامحدود نہیں‘، تاہم اس کے باوجود مملکت سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے۔
ان کے مطابق ایران کے سفیر اب بھی سعودی عرب میں موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
خطے میں صف بندی اور خلیجی اتحاد
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل عباس نے کہا کہ عرب لیگ سے عملی حمایت کی توقع کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’1950 کا مشترکہ عرب دفاعی معاہدہ عملی طور پر غیر مؤثر رہا ہے، اور زیادہ تر معاملات میں صرف رسمی بیانات ہی سامنے آتے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک نے اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر مشترکہ خطرے کے مقابلے میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیجی تعاون کا ڈھانچہ عملی طور پر فعال ہے۔