Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مشرقِ وسطیٰ میں موسم کی غیر معمولی صورتحال، آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کے لیے خطرہ

متحدہ عرب امارات میں گذشتہ کئی دنوں سے شدید بارش ہو رہی ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
ایک طاقتور طوفان سعودی عرب اور خلیجی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو موسلا دھار بارشوں، شدید آندھیوں اور گرد آلود ہوائوں کو ساتھ لے کر آ رہا ہے۔
ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کے اختتام تک خشکی سے گھِرے علاقے اور سمندر دونوں شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بدھ اور جمعرات کو گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارشوں کے دوران ہواؤں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ (37 میل فی گھنٹہ) سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے حدِ نگاہ متاثر ہوگی اور ساحلی علاقوں میں اونچی لہریں پیدا ہوں گی۔
سعودی نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ پیش گوئی میں کہا کہ ‘اس طوفان کے باعث افقی حدِ نگاہ تقریباً یا مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے، جبکہ ساحلی علاقوں میں لہروں کی اونچائی 2.5 میٹر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔‘
موسمیاتی پیشگوئی کرنے والے ایک علاقائی ادارے عربیہ ویدر کے مطابق یہ طوفان ایک گہرے لیکن کم دباؤ کے نظام کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے، جو بالائی فضا کی سرد اور جنوب سے آنے والی گرم اور نمی سے بھرپور ہواؤں کے ساتھ مل کر خطے میں شدید غیر مستحکم موسم پیدا کر رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں گذشتہ کئی دنوں سے شدید بارش ہو رہی ہے۔ ابو ظہبی اور عجمان کے بعض علاقوں میں کم وقت میں تقریباً سال بھر کے برابر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
امارات کے نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق اس نظام کی شدت جمعرات کی رات سے جمعے تک اپنے عروج پر پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے دوران تیز بارش، گرج چمک اور تیز ہوائیں چلیں گی۔
ادارے نے مقامی سطح پر سیلابی صورتِ حال کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو نشیبی علاقوں اور سیلاب زدہ مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی طور پر پیش گوئی کرنے والے ادارے ’ایکو ویدر‘ کے سربراہ جیسن نکولز نے ’دی نیشنل‘ کو بتایا کہ ’ بارش اور گرج چمک کا سلسلہ جمعے تک مشرقی سعودی عرب، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات سے ہوتے ہوئے مشرقی عمان تک جاری رہے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر چھوٹے بگولوں (ٹورنیڈو) کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، اور اس وقت حالات ایسے ہیں کہ اس طرح کے طوفان آ سکتے ہیں۔‘
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرہ
عربیہ ویدر کے ماہرین نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جو دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے اور اس وقت ایران سے جاری کشیدگی کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ’شدید اور غیر معمولی گرج چمک والے طوفان‘ اس علاقے کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ تیز ہوائیں اور بلند لہریں کم از کم جمعرات تک بحری آمد و رفت میں خلل ڈال سکتی ہیں۔
عربیہ ویدر کے ماہرین نے پیر کے روز کہا کہ ’یہ طاقتور طوفان پیر سے لے کر آئندہ جمعرات تک تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے باعث آبنائے میں بحری ٹریفک کو متاثر کر سکتے ہیں۔‘
’چنانچہ ملاحوں اور کمپنیوں کو چاہیے کہ آئندہ دنوں میں خطرات سے بچنے کے لیے انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘
واشنگٹن ڈی سی میں قائم سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر فیلو سِینا توسی کے مطابق یہ موسمی حالات فضائی کارروائیوں، انٹیلیجنس اور منصوبہ بندی کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں اور لاجسٹکس میں بھی رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں امریکہ کو ’قلیل مدتی آپریشنل وقفہ‘کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
 

شیئر: