امریکی ڈالر پر صدر ٹرمپ کے دستخط، کیا ڈیزائن میں کچھ اور بھی تبدیل ہو گا؟
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق جون سے سو ڈالر کا نوٹ دستیاب ہو گا: فائل فوٹو اے ایف پی
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر کے کرنسی نوٹ پر دستخط شامل کیے جا رہے ہیں۔
محکمۂ خزانہ کے مطابق صدر ٹرمپ کے دستخط پر مشتمل کرنسی نوٹ موسم گرما سے دستیاب ہوں گے اور امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقعے پر جاری کیے جانے والے نئے نوٹوں میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
165 برس کی روایت کے برعکس پہلی بار کرنسی نوٹ اور سکے جاری کرنے والے محکمے کے سربراہ کے دستخط کرنسی نوٹ سے ہٹا دیے جائیں گے۔
روئٹرز کے مطابق جون میں پہلے 100 ڈالر کے نوٹ چھاپے جائیں گے جن پر صدر ٹرمپ اور وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے دستخط ہوں گے جبکہ دیگر مالیت کے نوٹ بعد میں جاری کیے جائیں گے اور یہ نئے نوٹ بینکوں کے ذریعے مارکیٹ میں آنے میں کچھ ہفتے لے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت بھی سابق صدر یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صدر کا نام مختلف سرکاری منصوبوں، عمارتوں اور یادگاری اشیاء پر نمایاں کرنے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سونے کے ایک یادگاری سکے کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی گئی ہے جس پر ٹرمپ کی تصویر شامل ہوگی۔
امریکی قوانین کے تحت کرنسی کے ڈیزائن میں تبدیلیاں جعلسازی سے بچاؤ کے لیے کی جا سکتی ہیں، تاہم ’In God We Trust‘ برقرار رکھنا لازمی ہے جبکہ کرنسی پر صرف وفات پا جانے والی شخصیات کی تصاویر ہی شامل کی جا سکتی ہیں۔
محکمۂ خزانہ کے حکام کے مطابق نوٹوں کے مجموعی ڈیزائن میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی اور صرف خزانچی کے دستخط کی جگہ صدر ٹرمپ کے دستخط شامل کیے جائیں گے۔