Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیاست اور اقتدار کی ان کہی کہانیاں: عامر خاکوانی کا کالم

صحافی عبدالقادر حسن اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ محلاتی سازشوں کو سمجھنے کے لیے راجہ منور (بائیں) کی کہی باتوں کو غور سے سنا جائے۔ (فوٹو: سکرین گریب)
راجہ منور پاکستان کے پرانے باخبر سیاستدانوں میں سے ہیں، انہیں بھٹو اور بعد ضیا دور میں ایوان اقتدار کے قریب رہنے کا موقع ملا۔ وہ بے نظیر بھٹو کے بھی قریب رہے۔ بہت سے اہم واقعات کے وہ عینی شاہد ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کے الفاظ میں بھٹو دور میں غلام مصطفیٰ کھر کی وزارت اعلیٰ سے رخصتی، پھر حنیف رامے کا آنا اور ان کی رخصتی جیسے واقعات اور پھر جنرل ضیا دور میں بہت سی اندر کی باتوں کی خبر راجہ منور خاصا پہلے اپنے چائے کی مخصوص محفلوں میں دے دیا کرتے تھے۔ نصرت جاوید کے بقول عبدالقادر حسن جیسے سینیئر اور بہت گہرے رابطے رکھنے والے صحافی اس بات کا برملا اعتراف کرتے تھے کہ محلاتی سازشوں کو سمجھنے کے لیے راجہ منور کی کہی باتوں کو غور سے سنا جائے۔
سیاست کے اسی چشم دید گواہ راجہ منور نے اب اپنی یادداشتیں ’اعتراف‘ کے نام سے شائع کی ہیں۔ جمہوری پبلیکیشنز کے فرخ سہیل گوئندی کو یہ کتاب منظرعام پر لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ 400 صفحات کی ضخیم کتاب ہے، اس کا کچھ حصہ ایڈٹ ہو سکتا تھا، مگر شاید راجہ صاحب اپنی تمام یادداشتیں سامنے لانا چاہتے ہوں گے۔ پچھلے کئی دنوں سے اس کا مطالعہ جاری ہے، کئی دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں، جنہیں قارئین سے شیئر کر رہا ہوں۔
راجہ منور غلام مصطفیٰ کھر کے دوست تھے، مگر ان کے مزاج اور طرز سیاست سے شاکی تھے۔ ایک دلچسپ واقعہ انہوں نے بیان کیا، لکھتے ہیں: ’بھٹو صاحب وزیراعظم بننے والے تھے، وہ لاہور دورے پر آئے ہوئے تھے، انہوں نے کھر اور ان کے دوست اصغر پگانوالہ کو کہا کہ آج دوپہر کو کھانا گوالمنڈی کی مشہور دکان شمے کا تیارکردہ ہونا چاہیے اور کھانے کے ساتھ کسی بہت اچھی قسم کے آم برف سے بھرے ٹب میں ڈبو کر رکھے جائیں۔
ایسا ہی کیا گیا۔ بھٹو صاحب کو کھانا اور آم پسند آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کون سی قسم کے آم ہیں۔ کھر نے ترنت جواب دیا ، سر یہ میرے باغ کے آم ہیں اور یہ انور رٹول کہلاتے ہیں۔ بھٹو صاحب نے کہا، ’یہ نام تو میں نے بھی سندھ میں لگے ہوئے اچھے آموں کے بارے میں سنا ہے، مصطفیٰ پہلے تو کبھی تم نے یہ آم نہ ہمیں بھیجے نہ کھلائے۔ یہ نام انور کیسے پڑا؟‘ کھر نے جواب دیا، یہ میرے والد کے ایک منشی انور سے منسوب ہے۔
کچھ دیر کے بعد راجہ منور اور اصغر پگانوالہ بھٹو صاحب کو فین روڈ میاں محمود علی قصور کے گھر چھوڑنے گئے تو راستے میں راجہ منور نے بھٹو صاحب سے کہا، ملک کا اقتدار اب آپ کے پیر کی خاک بن چکا ہے، لیکن آپ سچ کا رس کان میں گھولنے والے دوستوں کو بھی اپنے قریب رکھیں۔
بھٹوصاحب یہ سن کر حیران ہوئے، پھر راجہ منور نے بتایا کہ کھر صاحب نے غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ یہ آم اپنی خاص مٹھاس، بغیر ریشے اور سخت چھلکے کی وجہ سے مشہور ہیں، یہ میرٹھ، انڈیا کے قریب رٹول نامی ایک چھوٹے سے قصبے کی وارئٹی ہے۔ اس کے مالک شیخ آفاق جوانی ہی میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر اپنے قصبے رٹول میں واقع زمینوں پر قسم قسم کے آم لگانے اور افزائش کے تجربے کرنے میں مشہور تھے۔ انور رٹول دراصل ان کے بیٹے انور کے نام سے منسوب ہے۔ سندھ میں بھی شیخ آفاق کی فیملی نے اس آم کی ایک چھوٹی سی نرسری لگائی ہے۔ پنڈت نہرو بھی انور رٹول کے بہت دلدادہ تھے، ملکہ ایلزبتھ کی سالگرہ پر حکومت ہندوستان نے انگلستان یہ آم تحفے کے طور پر بھیجے تھے۔ بھٹو صاحب یہ بات سن کر سکتے میں آ گئے۔ اس دوران گاڑی فین روڈ پہنچ گئی۔ بھٹو نے صرف اتنا کہا، مصطفیٰ (کھر) کے جھوٹ ہمارے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ میری اس سے پرانی وابستگی ہے، مگر آج والی بات نے تو مجھے ہلا کر رکھ دیا۔‘

سیاست کے اسی چشم دید گواہ راجہ منور نے اب اپنی یادداشتیں ’اعتراف‘ کے نام سے شائع کی ہیں۔ (فوٹو: جمہوری پبلیکیشنز)

بھٹو صاحب کے حوالے سے ایک اور بہت دلچسپ قصہ راجہ منور نے بیان کیا کہ ایوب خان کی کابینہ سے فراغت کے بعد بھٹو صاحب لاہور کے مشہور فلیٹیز ہوٹل میں قیام پزیر تھے، ان سے ملنے کے لیے ڈاکٹر جاوید اقبال (فرزند علامہ اقبال) اور پرانے مسلم لیگی رہنما میاں منظر تشریف لائے۔ اتفاق سے اس وقت راجہ منور بھی وہاں موجود تھے۔ ان دونوں مہمانوں کا خیال تھا کہ بھٹو صاحب اپنی نئی جماعت بنانے کے لیے مسلم لیگ کونسل میں شمولیت اختیار کریں، جس کے سربراہ ممتاز دولتانہ تھے۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ میں اس پر غور کروں گا مگر کیا آپ پہلے مجھے 1946 کی آل انڈیا مسلم لیگ کا انتخابی منشور مہیا کر سکتے ہیں؟ میاں منظر بشیر نے کہا، اس کی کوئی نقل میرے پاس ہو گی۔ تلاش کرنا پڑے گی۔ دو دن کے بعد میاں منظر ایک پمفلٹ نما دیمک سے کھائی ہوئی آسیب زدہ منشور کی کاپی لفافے میں بند بھٹو صاحب کو دینے آئے۔ بھٹو صاحب نے اس کاپی کو دیکھ کر ازراہ مزاح کہا، میاں صاحب آپ نے جو حشر اس منشور کے ساتھ کیا، مسلم لیگ کونسل کی بھی وہی حالت ہو چکی ہے۔ پھر بھٹو صاحب نے عینک لگا کر پڑھنے کی کوشش کی، ناکامی پر میاں منظر کو کہا کہ پڑھ کر سنائیں۔
میاں منظر بشیر نے جو چند اقتباسات پڑھ کر سنائے، ان کا بنیادی نکتہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھا۔ بھٹو صاحب یہ سن کر مارے خوشی کے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ قائداعظم کا ہاتھ پسے ہوئے مفلوک الحال مسلمانوں کی نبض پر تھا اور انہوں نے درست سمت اختیار کی اور نتیجے میں مسلم لیگ کو بھرپور کامیابی ملی۔
یوں لگتا ہے کہ بھٹو صاحب کو یہ نکتہ پسند آ گیا اور وہ کونسل مسلم لیگ میں شامل تو نہیں ہوئے، مگر انہوں نے سنہ 70 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا مشہور اور مقبول عوامی نعرہ روٹی کپڑا مکان اپنی اسی سوچ کی وجہ سے لگایا۔

راجہ منور غلام مصطفیٰ کھر کے مزاج اور طرز سیاست سے شاکی تھے۔ (فائل فوٹو: سکرین گریب)

راجہ منور نے بے نظیر بھٹو کے حوالے سے ایک اور واقعہ لکھا ہے، کہتے ہیں وزیراعظم بے نظیر بھٹو سٹیٹ گیسٹ ہاؤس مال روڈ میں قیام پذیر تھیں، بھٹو صاحب کی سیاست اور سنہ 77 کے قبل از وقت الیکشن پر بات ہو رہی تھی۔ بی بی نے بتایا، ’جب بھٹو صاحب ابھی بچے تھے، بمبئی میں قیام پذیر تھے، وہاں کے ایک نامور ہندو دست شناس جوتشی نے بھٹو صاحب کا زائچہ تیار کیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کی والدہ کو پریشانی کے عالم میں بتایا کہ یہ بچہ 50 برس کی عمر کے بعد میرے زائچے کے مطابق ابدی تاریکی کی نذر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ سن کر بھٹو صاحب کی والدہ پریشان ہو گئیں، انہوں نے اسے مزید احتیاط سے زائچہ دیکھنے کا مشورہ دیا، مگر جوتشی بار بار یہی کہتا رہا کہ 50 برس کی عمر بیتنے کے بعد میرے زائچے میں سوائے تاریکی کے کچھ نظر نہیں آ رہا۔‘
بے نظیر بھٹو نے اس کے بعد کہا کہ بعد میں ہمیشہ ہمارا خاندان بھٹو صاحب کی کم عمری کے خوف کے سائے کے وہم وگمان میں ڈوبا رہا اور یقینا یہی وہ اشارے تھے کہ بابا (بھٹو) کم عمری میں تیز رفتاری کی سیاست کو لپکتے رہے اور 51 برس کی عمر میں زندگی کو خداحافظ کہہ بیٹھے۔ (راجہ منور نے تو نہیں لکھا، مگر بھٹو صاحب نے مشہور اطالوی صحافی اوریانا فلاسی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ بھٹو خاندان کے مرد زیادہ عمر نہیں جیتے، اس لیے میرے پاس بھی زیادہ وقت نہیں، کم وقت میں بہت کچھ کرنا ہے۔)
راجہ منور کی کتاب میں خاصا کچھ مزید بھی ہے، مگر اس کے لیے ایک اور نشست درکار ہوگی، البتہ جنرل ضیا کے ستمبر 1978 میں دورہ افغانستان کی مختصر جھلک پیش کرتا ہوں۔

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ہمیشہ ہمارا خاندان بھٹو صاحب کی کم عمری کے خوف کے سائے کے وہم وگمان میں ڈوبا رہا۔ (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)

جنرل ضیا دراصل ایران گئے تھے، واپسی پر جنرل ضیا الحق نے افغانستان کا مختصر دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کابل پہنچے، نور محمد ترکئی جو تب افغان سربراہ بن چکے تھے، جبکہ حفیظ اللہ امین ان کا دست راست تھا۔ ترکئی نے اپنا سیاسی انقلابی فلسفہ جنرل ضیا کے سامنے بیان کیا، دونوں حکمرانوں کی سوچ میں زمین وآسمان کا فرق تھا۔ پھر ترکئی نے کہا کہ ہم دونوں اپنے اپنے ملک میں آئے اور لائے گئے انقلاب کا موازنہ کریں۔ پہلے ترکئی نے کہا کہ ہم پچھلے 13 برس سے اپنے ملک میں انقلاب لانے کی تیاری کر رہے تھے، اب کچھ عرصہ قبل حفیظ اللہ امین جونہی جیل سے نکلا، ہم نے انقلاب کے پروگرام پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے۔
پھر ترکئی نے جنرل ضیا سے پوچھا کہ آپ کا طرز عمل اور انقلاب پر عمل درآمد کیسے رہا؟ جنرل ضیا نے کہا، درحقیقت پاکستان میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’میں نے صرف بھٹو کو ٹیلی فون پر اطلاعاً بتایا کہ میں نے ملک کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ اور میں نے بھٹو سے اس کی زندگی کی حفاظت کا وعدہ کیا۔‘ (تصور کیا جا سکتا ہے کہ انقلاب لانے کا دعوے دار نور محمد ترکئی اور اس کے ساتھی جنرل ضیا کا منہ دیکھتے رہ گئے ہوں گے۔)
راجہ منور نے جلال آباد میں متعین پاکستانی قونصلر کے حوالے سے بتایا کہ جب افغانستان میں 15 اگست 1978 کو انقلابی تبدیلی آئی اور ترکئی حکمران بنا تو قونصلر جنرل جلال آباد میں مقیم خان عبدالغفار خان سے ملنے گیا۔ باچا خان کابل میں آنے والی تبدیلی کے مخالف پائے گئے۔ خان نے پاکستانی قونصلر کو بتایا کہ افغان حکومت کی کوئی مضبوط جڑیں موجود نہیں اور ان کا یہ دعویٰ کہ انہیں عوامی حمایت حاصل ہے، درست نہیں۔

جنرل ضیا الحق نے نور محمد ترکئی کو کہا کہ درحقیقت پاکستان میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

باچا خان نے پیش گوئی کی، ترکئی حکومت جلد گرا دی جائے گی کیونکہ اس کی پیدائش وائلنس کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ باچا خان نے بتایا کہ میں نے اجمل خٹک کو کہا ہے کہ افغانستان کے حکمران تباہی کے راستے پر رواں دواں ہیں اور ایک تاریخ تباہی کا راستہ اختیار کر چکے ہیں۔
راجہ منور نے آخر میں تبصرہ کیا، بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ باچا خان حالات کا کس قدر درست اور حقیقی اندازہ لگا چکے تھے۔

شیئر: