نریندر مودی امارات سمیت پانچ ممالک کے دورے پر، توانائی اور علاقائی استحکام ترجیح
وزیراعظم مودی اس چھ روزہ دورے کے دوران نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی بھی جائیں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پانچ ممالک کے دورے کا آغاز کر دیا ہے، جس میں وہ یورپ جانے سے قبل متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ دورہ ایران کی جنگ کے باعث توانائی اور سپلائی چین سے متعلق خدشات کے سائے میں ہو رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خلیجی بحری راستوں اور آبنائے ہرمز کے گرد رکاوٹیں تیل اور گیس کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو مسلسل بڑھا رہی ہیں، جس سے انڈیا سمیت توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاہم یہ دورہ انڈیا کی اس وسیع تر کوشش کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنی معاشی اور سٹریٹجک شراکت داریوں کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور خود کو ایک بڑے مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
وہ اس چھ روزہ دورے کے دوران نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی بھی جائیں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب انڈیا اور یورپی یونین نے جنوری میں آزاد تجارتی معاہدہ کیا تھا، جسے مودی نے ’تمام معاہدوں کی ماں‘ قرار دیا تھا۔
یورپی یونین طویل عرصے سے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا کو ایک اہم منڈی کے طور پر دیکھتا رہا ہے۔
نئی دہلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مودی کا یہ دورہ ’یورپ کے ساتھ انڈیا کی شراکت داری کو مزید گہرا کرے گا اور انڈیا اور یورپی یونین میں ہونے والے حالیہ آزاد تجارتی معاہدے کے باعث تجارتی اور سرمایہ کارانہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔‘
مودی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک نارڈک سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ ان کا ناروے کا پہلا دورہ ہے اور 43 برس بعد کسی انڈین وزیرِاعظم کا پہلا دورہ بھی، جسے مبصرین شمالی یورپ کے ساتھ انڈیا کے بڑھتے روابط کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
