Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ کے لیے نئی امدادی کشتی روانہ، سعد ایدھی سمیت 500 سے زائد کارکن شریک

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پرامن انسانی امدادی مشن کو چھ سے سات دن میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔(فائل فوٹو: اے ایف پی)
ترکی کے شہر مارمارس سے غزہ جانے والے ایک نئے انسانی امدادی بحری مشن میں پاکستانی سماجی کارکن اور امدادی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہیں ے جن میں ایدھی فاؤنڈیشن کے نمائندے سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ بدھ کی شب ترکی سے روانہ ہوا، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد کارکن سوار ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پرامن انسانی امدادی مشن کو چھ سے سات دن میں مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق معروف پاکستانی سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے سعد ایدھی روانگی سے قبل کئی روز تک ترکی میں امدادی سامان کی خریداری اور انتظامات کی نگرانی کرتے رہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ امدادی سامان میں راشن، خشک خوراک، ادویات، بچوں کے دودھ اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں، جو غزہ کے شہریوں کے لیے بھیجی جا رہی ہیں۔
یہ مشن ایسے وقت میں روانہ ہوا ہے جب غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی پر عالمی سطح پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ رواں ماہ اسرائیلی افواج نے ایک اور ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روک کر اس میں شامل کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔
اسرائیلی کارروائی پر پاکستان سمیت 11 ممالک نے مشترکہ مذمتی بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ’بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی کارکنوں کی کشتیوں پر حملے اور ان کی غیر قانونی حراست بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان بھی گزشتہ امدادی مشن میں شامل تھے جنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لینے کے بعد بعد ازاں رہا کر کے ترکی منتقل کر دیا تھا۔
اسرائیل ماضی میں ایسی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی اس کی سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے۔
اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جان سے جا چکے ہیں جبکہ بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔

شیئر: