ام رباب چانڈیو اہل خانہ قتل کیس میں نامزد ملزمان بری،2017 کو دادو میں کیا ہوا تھا؟
ام رباب چانڈیو اہل خانہ قتل کیس میں نامزد ملزمان بری،2017 کو دادو میں کیا ہوا تھا؟
پیر 30 مارچ 2026 11:46
زین علی -اردو نیوز، کراچی
ام رباب چانڈیو نے اس واقعے کے بعد سرداری نظام کے خلاف آواز بھی بلند کی: فوٹو سکرین گریب
صوبہ سندھ کے علاقے دادو میں ایک طویل عرصے سے زیر بحث رہنے والے ام رباب چانڈیو کے اہل خانہ کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔
وکیل استغاثہ صلاح الدین پنہور کے مطابق عدالت نے شواہد کی بنیاد پر تمام ملزمان کو بری کر دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ استغاثہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
ان کے بقول یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں نہ صرف عینی شاہدین کے بیانات موجود تھے بلکہ میڈیکل شواہد بھی فراہم کیے گئے تھے، اس کے باوجود ملزمان کا بری ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ مقدمہ تقریباً آٹھ برس قبل پیش آنے والے ایک واقعے سے جڑا ہے۔
2017 میں دادو کے علاقے میہڑ میں ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتولین اپنے گاؤں میں موجود تھے اور مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کر دیا۔
اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا اور اسے سندھ میں جاری قبائلی تنازعات اور سرداری نظام پر کئی سوالات اٹھائے۔
قتل کے اس مقدمے میں مجموعی طور پر آٹھ افراد کو نامزد کیا گیا تھا، جن میں دو ارکان اسمبلی بھی شامل تھے۔
مقدمے کے دوران چار ملزمان جیل میں رہے جبکہ دیگر چار ضمانت پر تھے۔ اس کیس کی سماعت مختلف مراحل سے گزری اور کئی بار تاخیر کا شکار بھی رہی، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا۔
فیصلے سے قبل ام رباب چانڈیو کے گھر کے باہر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی: فائل فوٹو اے ایف پی
ام رباب چانڈیو جو اس کیس میں مرکزی مدعی کی حیثیت رکھتی ہیں، اس واقعے کے بعد ایک علامت کے طور پر ابھریں۔
انہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے لیے انصاف کی جدوجہد کی بلکہ سندھ میں سرداری نظام کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ کئی مواقع پر انہوں نے احتجاج کیا، پریس کانفرنسز کیں اور عدالتوں کے باہر دھرنے بھی دیے۔
ان کی جدوجہد کو سوشل میڈیا پر بھی خاصی پذیرائی ملی اور انہیں ایک بہادر خاتون کے طور پر پیش کیا گیا جو طاقتور حلقوں کے خلاف کھڑی ہے۔
کیس کے دوران استغاثہ کی جانب سے تین گواہان کے بیانات پیش کیے گئے تھے، جنہوں نے وقوعہ کی تفصیلات بیان کیں۔
اس کے علاوہ میڈیکل رپورٹس اور دیگر شواہد بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے۔ تاہم دفاع کی جانب سے ان شواہد پر سوالات اٹھائے گئے اور انہیں ناقابلِ اعتبار قرار دیا گیا۔
عدالت نے گزشتہ سماعت میں تمام گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے اب سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جوڈیشل کمپلیکس اور اس کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ ام رباب چانڈیو کے گھر کے باہر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔
حکام کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ساڑھے چار سو سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔