پاکستان خصوصاً صوبہ پنجاب کے اربن سینٹرز یعنی بڑے شہروں میں ان دنوں انسانوں اور کتوں کے درمیان ایک عجیب جنگ شروع ہے جس کی کئی جہتیں ہیں۔
ایک طرف انسان، کتوں کو مارنے کے درپے ہیں تو ایک طرف وہی انسان، کتوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ اور پھر اسی دوران یہ جنگ انسانوں اور انسانوں کے بیچ بھی شروع ہو چکی ہے۔ آئیے ہم آپ کو سمجھاتے ہیں یہ جنگ کیسی دکھائی دیتی ہے۔
چند روز قبل 7 مئی کی شام پانچ بجے کے قریب سید حیدر کے واٹس ایپ گروپ میں ایک میسج آیا۔ اس میسج میں بتایا گیا کہ لاہور بلدیہ کے اہلکار ’فیڈر علاقوں‘ سے 30 کے قریب کتے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ یہ لاہور میں 10 سے 12 ایسے علاقے ہیں جو جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے آپس میں تقسیم کر رکھے ہیں۔ جہاں وہ روزانہ کتوں کو خوراک فراہم کرتے ہیں اور ویکسینیشن کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
کیا کتے بھی انسانوں کی طرح باتیں سن کر الفاظ سیکھ سکتے ہیں؟Node ID: 899303
سید حیدر بتاتے ہیں کہ ’میں نے اسی وقت میونسپل کمیٹی کی طرف دوڑ لگا دی اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور ایکٹوسٹ عافیہ خان بھی میرے ساتھ رابطے میں تھیں اور ہم میونسپل کمیٹی کے دفتر پہنچ گئے۔‘
’ہم نے ایڈمنسٹریٹر کو بتایا کہ ہم نے اس علاقے میں تمام کتوں کی نہ صرف ویکسینیشن کروا رکھی ہے بلکہ یہ سب بے ضرر ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں تو ان کی نَس بندی بھی ہم کروا لیتے ہیں۔ یہ ہمیں دے دیں ہم انہیں شیلٹرز میں رکھ لیتے ہیں۔‘
بظاہر یہ معمولی واقعے کی ایک معمولی ٹیبل ٹاک تھی اور ایڈمنسٹریٹر مان گئے، اور انہیں اپنی گاڑی منگوانے کا کہہ کر معاملہ نمٹا دیا۔ اسی دوران سید حیدر کے بقول انہوں نے میونسپل کمیٹی کی گاڑیوں میں پکڑے گئے کتوں کی ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔
’میں تو اپنے ریکارڈ اور لوگوں کی معلومات کے لیے یہ ویڈیوز بنا رہا تھا، لیکن یہ لوگ غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور تھانے لے گئے۔‘
سید حیدر کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے مجھے کئی گھنٹے ذہنی اذیت دی کہ پرچہ کاٹ دیں گے، مجھے حلف نامہ دینے کو کہتے رہے کہ آئندہ کتوں کے حقوق کی بات سے نہیں کروں گا۔ خیر ایسا تو میں نے نہیں کیا پھر میرے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت اور دھمکیوں کا پرچہ کاٹ دیا۔‘
اسی طرح کی ملتی جلتی صورتِ حال چار مئی کو بھی ہوئی جس میں بلدیہ کی گاڑیوں میں سے کتوں کو کچھ ایکٹوسٹس نے آزاد کروا لیا۔

ان میں چونکہ ایک سیاست دان کی ایکٹوسٹ بیٹی بھی شامل تھی تو بلدیہ نے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی۔ چند روز قبل ایسی ہی ایک صورت حال اسلام آباد میں بھی ہوئی۔ جس میں کتوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خلاف سی ڈی اے نے فوجداری مقدمہ درج کروا دیا۔
اب یہ واقعات عام ہو چکے ہیں، بلدیہ والے کتوں کو پکڑتے ہیں اور ایکٹیوسٹ انہیں چُھڑوانے پہنچ جاتے ہیں اور اب بات ایف آئی آرز کے اندراج تک پہنچ چکی ہے۔
کتے مارنے کی ’ظالمانہ‘ ویڈیوز
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اب اکٹھے ہو رہے ہیں اور ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ اردو نیوز نے ایسی درجنوں ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں لاہور کے گردونواح کے علاقوں میں کتوں کو پکڑ پکڑ گولیوں سے مارا جا رہا ہے۔
کئی جگہوں پر تو درجنوں مُردہ کتے دیکھے گئے۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لئے نہایت تکلیف دہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بلدیہ والے کتوں کو پکڑنے پہنچتے ہیں تو ایکٹوسٹ بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ جاتے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق پاکستان میں سالانہ 50 ہزار کتوں کو گولیوں یا زہر کے ذریعے تلف کیا جاتا ہے۔ ان میں سے سالانہ 20 ہزار کتے صرف لاہور اور کراچی جیسے دو بڑے شہروں میں مارے جاتے ہیں۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ آج کل کتے ختم کرنے کے لیے کافی سرگرم ہے، انتظامیہ کے ترجمان حارث سلہری کا کہنا ہے کہ ’ہم صرف قانون کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔‘
’قانون میں ہے کہ جس کتے کے گلے میں پٹا نہیں ہے وہ آوارہ ہے اور اس کو پکڑا جا سکتا ہے۔ کتوں کو پکڑنے کے بعد ہم اسے یا تو ویٹرنری والوں کے حوالے کرتے ہیں یا پھر انہیں شہر سے باہر دوردراز علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘
لڑائی جب عدالت پہنچی
یہ کشمکش ضلعی حکومتوں اور سرگرم کارکنوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی لاہور ہائی کورٹ میں بھی پہنچ چکی ہے۔ اس عدالتی مقدمے کی شروعات تو اس وقت ہوئی جب لاہور کے بھاٹی گیٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے پرندہ مارکیٹ کو راتوں رات گرایا گیا جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں پرندے اور جانور متاثر ہوئے۔













