پاکستان میں آوارہ کتوں کو مارنے اور بچانے کی ’عجیب جنگ‘، قانون کیا کہتا ہے؟
پاکستان میں آوارہ کتوں کو مارنے اور بچانے کی ’عجیب جنگ‘، قانون کیا کہتا ہے؟
ہفتہ 16 مئی 2026 5:56
رائے شاہنواز - اردو نیوز، لاہور
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ’ویکسینیشن کے بعد کتوں کو مارنا ٹھیک نہیں ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان خصوصاً صوبہ پنجاب کے اربن سینٹرز یعنی بڑے شہروں میں ان دنوں انسانوں اور کتوں کے درمیان ایک عجیب جنگ شروع ہے جس کی کئی جہتیں ہیں۔
ایک طرف انسان، کتوں کو مارنے کے درپے ہیں تو ایک طرف وہی انسان، کتوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ اور پھر اسی دوران یہ جنگ انسانوں اور انسانوں کے بیچ بھی شروع ہو چکی ہے۔ آئیے ہم آپ کو سمجھاتے ہیں یہ جنگ کیسی دکھائی دیتی ہے۔
چند روز قبل 7 مئی کی شام پانچ بجے کے قریب سید حیدر کے واٹس ایپ گروپ میں ایک میسج آیا۔ اس میسج میں بتایا گیا کہ لاہور بلدیہ کے اہلکار ’فیڈرل علاقوں‘ سے 30 کے قریب کتے اٹھا کر لے گئے ہیں۔
سید حیدر بتاتے ہیں کہ ’میں نے اسی وقت میونسپل کمیٹی کی طرف دوڑ لگا دی اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور ایکٹوسٹ عافیہ خان بھی میرے ساتھ رابطے میں تھیں اور ہم میونسپل کمیٹی کے دفتر پہنچ گئے۔‘
’ہم نے ایڈمنسٹریٹر کو بتایا کہ ہم نے اس علاقے میں تمام کتوں کی نہ صرف ویکسینیشن کروا رکھی ہے بلکہ یہ سب بے ضرر ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں تو ان کی نَس بندی بھی ہم کروا لیتے ہیں۔ یہ ہمیں دے دیں ہم انہیں شیلٹرز میں رکھ لیتے ہیں۔‘
بظاہر یہ معمولی واقعے کی ایک معمولی ٹیبل ٹاک تھی اور ایڈمنسٹریٹر مان گئے، اور انہیں اپنی گاڑی منگوانے کا کہہ کر معاملہ نمٹا دیا۔ اسی دوران سید حیدر کے بقول انہوں نے میونسپل کمیٹی کی گاڑیوں میں پکڑے گئے کتوں کی ویڈیوز بنانا شروع کر دیں۔
’میں تو اپنے ریکارڈ اور لوگوں کی معلومات کے لیے یہ ویڈیوز بنا رہا تھا، لیکن یہ لوگ غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور تھانے لے گئے۔‘
سید حیدر کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے مجھے کئی گھنٹے ذہنی اذیت دی کہ پرچہ کاٹ دیں گے، مجھے حلف نامہ دینے کو کہتے رہے کہ آئندہ کتوں کے حقوق کی بات سے نہیں کروں گا۔ خیر ایسا تو میں نے نہیں کیا پھر میرے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت اور دھمکیوں کا پرچہ کاٹ دیا۔‘
اسی طرح کی ملتی جلتی صورتِ حال چار مئی کو بھی ہوئی جس میں بلدیہ کی گاڑیوں میں سے کتوں کو کچھ ایکٹوسٹس نے آزاد کروا لیا۔
بلدیہ والے کتوں کو پکڑنے جاتے ہیں تو ایکٹوسٹ بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ جاتے ہیں (فائل فوٹو: زیبا مسعود)
ان میں چونکہ ایک سیاست دان کی ایکٹوسٹ بیٹی بھی شامل تھی تو بلدیہ نے معاملے پر خاموشی اختیار کر لی۔ چند روز قبل ایسی ہی ایک صورت حال اسلام آباد میں بھی ہوئی۔ جس میں کتوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خلاف سی ڈی اے نے فوجداری مقدمہ درج کروا دیا۔
اب یہ واقعات عام ہو چکے ہیں، بلدیہ والے کتوں کو پکڑتے ہیں اور ایکٹیوسٹ انہیں چُھڑوانے پہنچ جاتے ہیں اور اب بات ایف آئی آرز کے اندراج تک پہنچ چکی ہے۔ کتے مارنے کی ’ظالمانہ‘ ویڈیوز
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اب اکٹھے ہو رہے ہیں اور ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔ اردو نیوز نے ایسی درجنوں ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں لاہور کے گردونواح کے علاقوں میں کتوں کو پکڑ پکڑ گولیوں سے مارا جا رہا ہے۔
کئی جگہوں پر تو درجنوں مُردہ کتے دیکھے گئے۔ یہ ویڈیوز اور تصاویر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لئے نہایت تکلیف دہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بلدیہ والے کتوں کو پکڑنے پہنچتے ہیں تو ایکٹوسٹ بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ جاتے ہیں۔
عالمی تنظیم کے مطابق ’پاکستان میں سالانہ 50 ہزار کتوں کو گولیوں یا زہر کے ذریعے مار دیا جاتا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق پاکستان میں سالانہ 50 ہزار کتوں کو گولیوں یا زہر کے ذریعے تلف کیا جاتا ہے۔ ان میں سے سالانہ 20 ہزار کتے صرف لاہور اور کراچی جیسے دو بڑے شہروں میں مارے جاتے ہیں۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ آج کل کتے ختم کرنے کے لیے کافی سرگرم ہے، انتظامیہ کے ترجمان حارث سلہری کا کہنا ہے کہ ’ہم صرف قانون کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔‘
’قانون میں ہے کہ جس کتے کے گلے میں پٹا نہیں ہے وہ آوارہ ہے اور اس کو پکڑا جا سکتا ہے۔ کتوں کو پکڑنے کے بعد ہم اسے یا تو ویٹرنری والوں کے حوالے کرتے ہیں یا پھر انہیں شہر سے باہر دوردراز علاقوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘ لڑائی جب عدالت پہنچی
یہ کشمکش ضلعی حکومتوں اور سرگرم کارکنوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی لاہور ہائی کورٹ میں بھی پہنچ چکی ہے۔ اس عدالتی مقدمے کی شروعات تو اس وقت ہوئی جب لاہور کے بھاٹی گیٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے پرندہ مارکیٹ کو راتوں رات گرایا گیا جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں پرندے اور جانور متاثر ہوئے۔
ترجمان لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’جس کتے کے گلے میں پٹا نہیں وہ آوارہ ہے اور اس کو پکڑا جا سکتا ہے‘ (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)
اسی دوران ایک درخؤاست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی جس میں ملک میں نافذ جانوروں سے ظالمانہ سلوک کی روک تھام کے قانون کو چیلنج کیا گیا کہ کیسے یہ قانون جو کہ 1890 میں بنا تھا اب جانوروں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر پا رہا۔
صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں سرگرم کارکنوں کی درخؤاستیں لاہور ہائی کورٹ میں سالہا سال سے چل رہی ہیں۔ انہی درخؤاستوں پر 2019 میں عدالت نے بین الاقوامی طور پر نافذ ٹی این وی آر (ٹریپ، نیوٹرل، ویکسین اینڈ ریلیز) طریقہ کار کو فریم ورک کے طور پر وضع کیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو پابند بنایا کہ اس طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ یعنی آوارہ کتوں کو پکڑ کر انہیں نیوٹرل کر کے اور ویکیسن لگا کر چھوڑ دیا جائے۔
اسی دوران ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کتوں کو تلف کرنے کے لیے ایک درخؤاست عدالت میں دائر کی ہے۔ اس میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کو اس درخؤاست کی بنیاد بنایا گیا ہے۔ یوں کتے بچانے والے اور مارنے والے عدالت میں دُو بدُو ہیں۔
سید حیدر کہتے ہیں کہ ’عدالتی حکم کے بعد سے 2021 تک حکومت نے ٹی این وی آر پر عمل کیا، اور ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے کہ کہ بین الاقوامی طریقہ اختیار کیا جائے۔‘
لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو پابند بنایا تھا کہ آوارہ کتوں کو نیوٹرل کر کے اور ویکسین لگا کر چھوڑ دیا جائے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
’سنہ 2022 سے پھر یہ لوگ مارنے پر آگئے ہیں اور آج تک مار رہے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ بے زبان جانوروں کو نہ مارو، انسانی زندگیاں اچھا طریقہ اختیار کر کے بھی بچائی جا سکتی ہیں۔‘
گیلپ نے 2024 میں اس لڑائی پر ایک سروے بھی کروایا جس میں 57 فیصد پاکستانیوں نے کتوں کو مارنے کے حق میں رائے دی جبکہ 38 فیصد نے اس کو ایک ظالمانہ اقدام قرار دیا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کتوں کی جان لیوا بیماری ریبیز سے ہلاک ہونے والے افراد کی سالانہ تعداد دو ہزار سے پانچ ہزار کے درمیان ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں جنوری 2024 سے مارچ 2026 تک پانچ لاکھ 15 ہزار ایسے کیسز سامنے آئے جس میں کتے کے کاٹنے کے واقعات رونما ہوئے۔
صرف کراچی میں سالانہ 40 ہزار سے زائد ایسے واقعات ہوتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں سالانہ قریباً 85 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
یہ اعدادوشمار بھی بتاتے ہیں کہ کتوں اور انسانوں کے درمیان جاری یہ جنگ جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔