Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک میں افریقی بھی شامل ہیں: پولیس حکام کا انکشاف

کراچی میں منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کے سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری اور اس کے نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ گرفتاری حساس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کے دوران عمل میں لائی گئی، جس میں نہ صرف بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا بلکہ ایک وسیع آن لائن نیٹ ورک کے شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔
جمعے کو پریس کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ ’کارروائی شہر کے ایک حساس علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے نتیجے میں ملزمہ کو گرفتار کیا گیا۔‘
’ملزمہ کے قبضے سے 1540 گرام کوکین، 6970 گرام مختلف اقسام کے نشہ آور کیمیکل اور ایک 9 ایم ایم پستول بمعہ راؤنڈز برآمد ہوئے۔‘ 
حکام نے اسے ایک منظم اور خطرناک نیٹ ورک کا اہم کردار قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمہ شہر کے مختلف تھانوں میں درج قریباً 20 مقدمات میں پہلے سے مطلوب تھی۔
ان مقدمات میں منشیات فروشی، غیر قانونی ترسیل اور دیگر سنگین نوعیت کے الزامات شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کو ابتدائی طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔
 تاہم وہاں سے جسمانی ریمانڈ نہ ملنے پر پولیس نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا، جہاں سے اسے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ ’دوران تفتیش ملزمہ نے ابتدائی طور پر اہم انکشافات کیے ہیں۔ ملزمہ نے 2014 اور 2015 کے دوران اپنے سابق شوہر کے ساتھ مل کر منشیات کا کاروبار شروع کیا تھا۔‘
’اس عرصے میں وہ اپنے سابق شوہر کے گاہکوں کے ساتھ رابطے میں رہتی اور منشیات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔‘
تحقیقات کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ اس نیٹ ورک میں وسعت آتی گئی اور 2018 سے ملزمہ نے باقاعدہ طور پر منشیات کا آن لائن کاروبار شروع کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ’یہ نیٹ ورک جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چلایا جا رہا تھا، جس میں واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے آرڈرز وصول کیے جاتے تھے۔‘
’بعد ازاں لوکیشن شیئرنگ کے بعد منشیات کو مختلف اشیاء، خاص طور پر کھانے پینے کے پیکٹس میں چُھپا کر بائیک رائیڈرز کے ذریعے مختلف مقامات تک پہنچایا جاتا تھا۔‘
پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک کی خاص بات اس کا منظم اور ڈیجیٹل انداز تھا، جس کے ذریعے روایتی پولیس چیک پوسٹس اور نگرانی سے بچنے کی کوشش کی جاتی تھی۔‘
حکام نے بتایا کہ اس طریقہ کار کے باعث یہ گروہ طویل عرصے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے اوجھل رہا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے 835 رابطہ نمبرز برآمد ہوئے ہیں، جن میں سے قریباً 300 نمبرز ایسے تھے جنہیں فعال صارفین کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔‘
پولیس کے مطابق ’ان نمبرز کے ذریعے منشیات کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری تھا۔ اس کے علاوہ 15 بڑے اور 38 مستقل گاہکوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے، جو مبینہ طور پر ہر ماہ باقاعدگی سے منشیات خریدتے تھے۔‘
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس نیٹ ورک میں آن لائن ڈیلیوری سروسز سے منسلک افراد کا کردار بھی شامل تھا اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے نو بائیک رائیڈرز کی شناخت کی گئی ہے۔‘
ان بائیک رائیڈرز میں سے ایک کا تعلق کراچی جبکہ باقی کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے بتایا جاتا ہے۔  ان افراد سے تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے کردار کی نوعیت واضح کی جا سکے۔
مالیاتی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ ’ملزمہ کے موبائل فون سے چھ مختلف بینک اکاؤنٹس کا سُراغ ملا ہے، جن کے ذریعے منشیات کی رقم وصول کی جاتی تھی۔‘
پولیس کے مطابق ’ایک نجی کمیونیکیشن بزنس سے منسلک ذیشان اور سہیل اس مالیاتی نظام کی نگرانی کرتے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان افراد نے ملزمہ کی ہدایت پر مختلف اکاؤنٹس میں رقوم کی منتقلی میں کردار ادا کیا۔‘
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’گذشتہ ایک سال کے دوران ان اکاؤنٹس کے ذریعے قریباً تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں، اس نیٹ ورک میں افریقی بھی شامل ہیں۔‘
حکام کے مطابق ’یہ رقم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی رہی تاکہ اصل ذریعہ آمدن کو چُھپایا جا سکے۔‘
پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور منظم گروہ کی نشان دہی کرتا ہے، جو شہر اور صوبے کے مختلف حصوں میں سرگرم ہے۔‘
پولیس حکام نے کہا ہے کہ اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
’اس کیس کی تفتیش کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور جدید ڈیجیٹل فورینزک ٹولز کی مدد سے تمام روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
حکام کہتے ہیں کہ ’کوشش کی جا رہی ہے کہ اس نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچ کر اسے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔‘
ایڈیشنل آئی جی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور کسی بھی سطح پر ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’یہ کارروائی ایک بڑے نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب اس پورے نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘
پولیس حکام کے مطابق ’ابھی تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔‘
قانون نافذ کرنے والے ادارے اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس کیس کے ذریعے شہر میں منشیات کی سپلائی چین کو بڑی حد تک توڑا جا سکے گا۔

شیئر: