اٹلی میں چور کروڑ ڈالر مالیت کے فن پارے تین منٹ میں چوری کر کے رفوچکر ہو گئے
میوزیم نے کہا ہے کہ یہ چوری ’ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی کا حصہ‘ تھی اور بظاہر چوری کی پوری منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ (فوٹو:
اطالوی حکام نے پیر کے روز یہ انکشاف کیا ہے کہ چوروں نے اس ماہ اٹلی کے ایک میوزیم میں گھس کر مشہور مصور رینوار، سیزان اور میتیس کے لاکھوں ڈالر مالیت کے فن پارے چرا لیے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اٹلی کے شہر کارابینیری کی پولیس فورس جو اس چوری کی تفتیش کر رہی ہے، کے مطابق چوروں کا گروہ 22 مارچ کی رات شمالی اٹلی کے شہر پارما کے مضافات میں واقع نجی آرٹ میوزیم میگنانی-روکا فاؤنڈیشن کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوا۔ پولیس کے مطابق تین منٹ کے اندر یہ گروہ تین پینٹنگز چوری کر کے رفوچکر ہو گیا۔
چوری شدہ فن پاروں میں پیئر-آگست رینوار کی ’لے پواسن‘ (Les Poissions)، پال سیزان کی ’سٹل لائف وِد چیریز‘ اور ہنری میتیس کی ’چھت پر خاتونِ حرم‘ شامل تھیں، جن کی مشترکہ مالیت تقریباً ایک کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔
اطالوی میڈیا کے مطابق میوزیم کے سکیورٹی سسٹم نے کام شروع کیا تو چوروں نے ایک چوتھا فن پارہ موقع پر چھوڑ دیا۔
’لے پواسن‘ کینوس پر بنائی گئی ایک آئل پینٹنگ ہے جو رینوار نے تقریباً 1917 میں بنائی تھی اور یہ فرانسیسی مصور کے کیریئر کے آخری دور کے امپرشنسٹ طرز مصوری کو ظاہر کرتی ہے، جس کی قیمت کا تخمینہ تقریباً 7 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
میوزیم نے کہا ہے کہ یہ چوری ’ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی کا حصہ‘ تھی اور بظاہر چوری کی پوری منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
یہ فنون لطیفہ کی دنیا میں بے خوف انداز سے کی گئی چوری کی ایک نمایاں واردات ہے، اور یہ اس واقعے کے چھ ماہ سے بھی کم عرصے بعد ہوئی ہے جب چوروں کے ایک گروہ نے پیرس کے لوور میوزیم میں دن کے وقت گھس کر میوزیم سے کچھ قیمتی شاہی جواہرات چرا لیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ایسی چوریاں حالیہ برسوں میں بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر جب ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی کے استعمال کے ذریعے ان قیمتی اشیا کو فروخت کرنا آسان ہو گیا ہے۔
میگنانی-روکا فاؤنڈیشن کا نام اس کے چیف بینیفیکٹر لوییجی میگنانی کے والدین کے نام پر رکھا گیا ہے، جو ایک اطالوی دانشور تھے اور انہوں نے 1970 کی دہائی میں یہ میوزیم قائم کیا۔ یہ میوزیم 1990 میں عوام کے لیے کھولا گیا اور اس میں کلاسیکی اور معاصر آرٹ کا وسیع مجموعہ موجود ہے، جس میں جینٹیلے دا فابریانو، فرانسسکو گویا اور وٹورے کارپاچیو کے فن پارے بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔
میوزیم چوری کے بعد بھی کھلا رہا اور یہ خبر اس وقت تک پوشیدہ رکھی گئی جب تک اٹلی کے سرکاری براڈکاسٹر رائی کی ایک علاقائی شاخ نے اتوار کو یہ خبر جاری نہیں کر دی۔
پیر کو رابطہ کرنے پر کارابینیری کے آرٹ تھیفٹ یونٹ نے تصدیق کی کہ وہ معاملے کی تفتیش کر رہا ہے اور مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
