Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثی باغی بھی جنگ میں شامل، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے: فوٹو اے ایف پی
یمن کے حوثی باغیوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بعد فی بیرل قیمت 115 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ 
پیر کو برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.09 ڈالر (2.74 فیصد) اضافے کے ساتھ 115.66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو کہ رواں ماہ کی ریکارڈ 119 کی سطح کے قریب ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس تیل کی قیمت 2.92 ڈالر (2.93 فیصد) اضافے کے ساتھ 102.56 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔
رواں ماہ مارچ میں تیل کی قیمت میں 59 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 1990 کی خلیجی جنگ کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جو دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل و گیس سپلائی کا اہم راستہ ہے۔
اس جنگ میں اب گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد یمن کے حوثی باغی بھی شامل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ تنازع خلیج عرب اور آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب تک پھیل گیا ہے، جو تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی زمینی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اس نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
اتوار کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوسرے مشاورتی اجلاس کے بعد کہا ہے کہ وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کی مکمل حمایت کی ہے۔

شیئر: