سپین نے ایران جنگ میں حصہ لینے والی امریکی جہازوں کے لیے فضائی حدود بند کر دی
ایران پر حملوں کے بعد سپین اور امریکہ کے تعلقات میں تلخی آئی ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
سپین کی وزیر دفاع کے مطابق ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں میں حصہ لینے والے امریکی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔
سپین نے اس سے پہلے ایران جنگ کے لیے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی اڈے دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے پیر کو میڈرڈ میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم نے ایران میں جنگ سے متعلق کارروائیوں کے لیے فوجی اڈوں کے استعمال یا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے رہے۔‘
وزیر دفاع کی میڈیا سے بات چیت سے پہلے سپین اخبار ایل پیس نے پیر کو فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایران جنگ کے حوالے سے امریکی جہازوں کے لیے فضائی حدود بند ہے۔
اخبار کے ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ جانے والے جہاز نیٹو کے رکن ملک سپین کی فضائی حدود کو بائی پاس کرنے پر مجبور ہیں تاہم اس پابندی میں ہنگامی صورتحال میں ایئرسپیس استعمال کرنے پر پابندی نہیں ہے۔
سپین کے اقتصادی اموار کے وزیر کارلوس کیورپو نے ایک ریڈیو انٹرویو میں فضائی حدود بند کرنے سے امریکہ سے تعلقات میں مزید ممکنہ کشیدگی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ سپین کی حکومت کی طرف سے پہلے ہی سے کیے گئے اس فیصلے کا حصہ ہے کہ وہ جنگ میں شامل نہیں ہو گی جو یک طرفہ اور بین الاقوامی قانون کے خلاف شروع کی گئی ہے۔‘۔
خیال رہے کہ سپین کی جانب سے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ کے لیے اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر صدر ٹرمپ نے تجارت روکنے کی دھمکی دی تھی۔