Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

محبت میں قتل کا ایک واقعہ جس نے انڈین جیوری کے فیصلے کے قانون کو ختم کر دیا

کمانڈر کاواس مانیکشا ناناوتی نے بیوی سے تعلقات رکھنے والے شخص کو قتل کرنے کے بعد گرفتاری دے دی تھی (فوٹو: دی ہندو)
یہ سنہ 1959 کا واقعہ ہے جو بمبئی (اب ممبئی) کے ایک پوش علاقے میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف اس وقت کے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ آنے والی دہائیوں تک قانون، اخلاقیات اور عوامی نفسیات پر گہرے اثرات چھوڑے۔
یہ کہانی کمانڈر کاواس مانیکشا ناناوتی، ان کی اہلیہ سلویا، اور ایک دولت مند تاجر پریم آہوجا کے درمیان محبت، غیرت اور جرم کی ایک پیچیدہ داستان ہے۔
اس کہانی پر کوئی دس سال پہلے سنہ 2016 میں رستم نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی جس میں اکشے کمار نے رستم یعنی ناناوتی کا ایلیانا ڈی کروز نے سلویا کا اور ارجن باجوا نے پریم آہوجا کا کردار نام بدل کر ادا کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جب بحریہ کے افسر کاواس ناناوتی کو مارچ کے مہینے میں اپنے اہلیہ کے تعلقات کا پتہ چلتا ہے تو وہ ایک منصوبہ مرتب کرتا ہے اور 27 اپریل کی دوپہر، ناناوتی اپنی بحریہ کی وردی میں ملبوس، خاموشی سے آہوجا کے فلیٹ میں داخل ہوتا ہے، جہاں چند لمحوں بعد گولیوں کی آواز گونجتی ہے، اور آہوجا فرش پر مردہ پڑا ہوتا ہے۔
کسی دوسرے قتل کی طرح ناناوتی نے فرار ہونے کے بجائے سیدھا پولیس سٹیشن جا کر اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ یوں ایک ایسا مقدمہ شروع ہوا جس نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
عدالت کے باہر کا منظر کسی فلمی میلے سے کم نہ تھا۔ خواتین ناناوتی کو دیکھنے کے لیے بے تاب رہتیں، بعض تو ان پر لپ سٹک سے نشان زد نوٹ پھینکتیں۔ سڑکوں پر کھلونے کی پستول اور تولیے بیچنے والے آوازیں لگاتے: 'ناناوتی کا پستول! آہوجا کا تولیہ!' یہ منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ یہ محض ایک قتل کا مقدمہ نہیں رہا بلکہ عوامی دلچسپی کا باعث بن چکا تھا۔

11 مارچ سنہ 1960 کو عدالت نے ناناوتی کو عمر قید کی سزا سنا دی تھی (فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام)

عدالت کے اندر کہانی مختلف تھی۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ آہوجا نہانے کے بعد صرف تولیہ لپیٹے ہوئے تھا جب اسے گولی ماری گئی۔ دفاعی وکلا نے دعویٰ کیا کہ دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور گولی حادثاتی طور پر چل گئی۔ مگر ایک سوال سب پر بھاری تھا ’اگر جھگڑا ہوا تو تولیہ کس طرح اپنی جگہ قائم رہا اور گرا نہیں؟‘
یہ مقدمہ جلد ہی محض ایک قتل کے کیس سے بڑھ کر سماجی تعصبات، حب الوطنی اور اخلاقیات پر گرما گرم مباحثے کا میدان بن گیا۔ ناناوتی کو ایک محب وطن ہیرو کے طور پر پیش کیا جانے لگا، ایک ایسا بحری افسر جو ملک کی خدمت میں مہینوں گھر سے دور رہتا تھا، جبکہ اس کی بیوی تنہائی کا شکار تھی۔ دوسری طرف آہوجا کو ایک بے اصول، عیش پسند تاجر کے طور پر دکھایا گیا۔
یہاں طبقاتی اور نسلی پہلو بھی نمایاں تھے۔ ناناوتی پارسی برادری سے تعلق رکھتے تھے، جو انڈیا میں زرتشت مذہب کے ماننے والوں پر مشتمل ایک بااثر اور معزز کمیونٹی سمجھی جاتی ہے۔ ان کے برعکس آہوجا سندھی برادری سے تھے، جو تقسیم ہند کے بعد بھارت آنے والے مہاجرین میں شامل تھی۔ میڈیا اور دفاعی ٹیم نے ان دونوں شناختوں کو اپنے اپنے بیانیے کے لیے استعمال کیا۔
23 ستمبر 1959 کو جیوری نے ناناوتی کو بے گناہ قرار دیا، مگر جج نے اس فیصلے کو 'غلط' قرار دیتے ہوئے کیس بمبئی ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔

اس واقعے پر ’رستم‘ کے نام سے بالی وڈ میں فلم بھی بنائی گئی (فوٹو: انڈیا ڈاٹ کام)

11 مارچ سنہ 1960 کو عدالت نے ناناوتی کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ریاستی گورنر نے غیر معمولی طور پر سزا کو معطل کر دیا۔
پھر اس کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں مقدمہ پیش ہوا اور اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے  ناناوتی کو جیل بھیج دیا گیا۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اکتوبر 1963 میں انہیں صحت کی بنیاد پر پیرول دی گئی، اور 16 مارچ سنہ 1964 میں ریاست مہاراشٹر کی گورنر وجے لکشمی پنڈت نے انہیں مکمل معافی دے دی۔
یہ مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی ثابت ہوا۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس نے انڈیا میں جیوری سسٹم کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ عوامی جذبات اور میڈیا کے دباؤ نے عدالتی عمل کو متاثر کیا، جس پر شدید تنقید ہوئی۔ چند ماہ بعد حکومت نے جیوری ٹرائلز کو ختم کر دیا۔
ناناوتی بعد میں اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئے، جہاں وہ ایک معزز شخصیت کے طور پر زندگی گزارتے رہے۔ ان کا انتقال 2003 میں ہوا، مگر ان کی کہانی آج بھی زندہ ہے۔
آج بھی جب کسی 'محبت میں کیے گئے جرم' کا ذکر ہوتا ہے، تو ناناوتی کیس ایک حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس نے نہ صرف ایک زندگی کا رخ بدلا بلکہ ایک پورے عدالتی نظام کو بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

شیئر: