سعودی کلب نے قازقستان کے قدرتی مسکن میں فالکنز چھوڑ دیے
سعودی فالکن کلب نے ’ھدد 2026 پروگرام‘ کے تحت بحالی اور افزائشِ نسل کے لیے قازقستان میں متعدد ’ساکر‘ فالکن چھوڑ دیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ انیشیٹیو ان جامع سائنسی کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت فالکنز کو اُن کے قدرتی مسکن تک پہنچانا اور اُن کی نقل مکانی کے عالمی راستوں پر اُنھیں تحفظ اور سپورٹ فراہم کرنا ہے۔
قازقستان کے ’التین امیل نیشنل پارک‘ میں فالکنز کو چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ مقام اُسی ماحول اور سائنسی معیار پر پورا اترتا ہے جہاں فالکنز کے لیے موزوں مسکن، کھلے اور وسیع علاقے موجود ہیں اور جہاں شکار وافر تعداد میں موجود ہے۔
فالکنز کی دو اہم اقسام پیری گرین اور ساکر کو مملکت کے باہر قدرتی مسکن میں منتقل کیا جا رہا ہے جو اپنی تیزی اور پھرتی کے لیے مشہور ہیں۔
فالکنز کو چھوڑنے کے بعد اُن کی مسلسل نگرانی اور ٹریکنگ ہو رہی ہے تاکہ چھوڑے جانے والے فالکنز کی بحالی اور افزائشِ نسل کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس مقام کی سٹریٹیجک لوکیشن بھی دنیا میں فالکنز کے نقل مکانی کے ایک اہم ترین راستے پر واقع ہے۔
قازقستان کو ساکر فالکن کا اصل مسکن ہے۔ یہ منصوبہ مملکت کی اُن کوششوں کا حصہ ہے جن کے تحت خطرے سے دوچار فالکنز کو محفوظ مسکن فراہم کرنا ہے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے پروگراموں کی معاونت کرنا ہے۔