Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کروشیا: دریا میں پھنسے پاکستانیوں سمیت 30 تارکین وطن کو بچا لیا گیا

یورپی یونین کا رکن ملک کروشیا غیر قانونی مہاجرین کے لیے بلقان کے راستے کے ذریعے یورپ پہنچنے کے لیے ایک اہم روٹ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
کروشیا میں ہنگامی امداد کے ادارے کے عملے نے بدھ کے روز تقریباً 30 تارکین وطن کو بچا لیا جو بوسنیا کی سرحد کے قریب دلدلی علاقے میں پھنس گئے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کچھ تارکین کے ہلاک ہونے کے خدشات کے باعث علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، لیکن فوری طور پر کسی لاش کا سراغ نہیں ملا۔
کروشیا کے وزیراعظم آندرے پلینکووِچ نے ایک اجلاس میں بتایا کہ مہاجرین کی کشتیاں دریا کے دلدلی حصے میں جاکر پھنس گئی تھی۔
پلینکووِچ نے کہا، ’اس وقت تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ جو لوگ دریا سے نکالے گئے ہیں وہ محفوظ ہیں اور انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘
وزارت داخلہ کے مطابق، آٹھ افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں زیادہ تر افراد کم درجہ حرارت (ہائپوتھرمیہ) کا شکار تھے۔
وزیرِ داخلہ داور بوزینووِچ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس گروپ میں زیادہ تر افراد افغانستان، پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے تھے۔
تقریباً 100 ریسکیو اہلکار بشمول پولیس اور فائر فائٹرز انتہائی دشوار گزار علاقوں میں کام کرتے ہوئے بابینا گریڈا کے قریب پھنسے ہوئے مہاجرین تک پہنچے، جو زاگراب سے تقریباً 240 کلومیٹر (150 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مہاجرین کی کشتیاں غیرقانونی طریقے سے سرحد عبور کرکے کروشیا میں داخل ہوئے تھے اور اس میں کوئی انسانی سمگلر ملوث تو نہیں؟
2025   میں کروشیا میں 14 تارکین کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں سے کم از کم دو سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران مارے گئے۔
یورپی یونین کا رکن ملک کروشیا غیر قانونی مہاجرین کے لیے بلقان کے راستے کے ذریعے یورپ پہنچنے کے لیے ایک اہم روٹ ہے۔
یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرونٹیکس کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں یورپ جانے والے 12,500 سے زائد تارکین نے بلقان کا راستہ اختیار کیا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق، 2014 سے اب تک اس راستے پر 400 سے زائد افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

شیئر: