عالمی کار ساز کمپنی ’سٹیلنٹیس‘ نے لاکھوں ہائبرڈ گاڑیاں واپس کیوں منگوا لیں؟
عالمی کار ساز کمپنی ’سٹیلنٹیس‘ نے لاکھوں ہائبرڈ گاڑیاں واپس کیوں منگوا لیں؟
بدھ 1 اپریل 2026 15:40
کمپنی کے ترجمان کے مطابق واپس منگوائی جانے والی کل گاڑیوں میں سے دو لاکھ سے زائد کا تعلق صرف فرانس سے ہے (فوٹو: اے ایف پی)
مشہور عالمی کار ساز ادارے ’سٹیلنٹیس‘ نے دنیا بھر سے اپنی سات لاکھ ہائبرڈ گاڑیوں کو واپس منگوانے کا اعلان کیا ہے جن میں فیاٹ، جیپ، سیٹروئن اور پیوجو جیسے بڑے برانڈز شامل ہیں۔
خبر رساں دارے اے ایف پی نے جرمنی کے گاڑیوں کے ریگولیٹر کے بی اے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ان گاڑیوں میں انجن کے حصے میں آگ لگنے کا ممکنہ خطرہ پایا گیا ہے جس کے پیشِ نظر یہ حفاظتی اقدام اٹھایا گیا ہے۔
کمپنی نے بدھ کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک دنیا بھر میں اس تکنیکی خرابی سے متعلق 36 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 12 واقعات میں گاڑیوں کو آگ لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق واپس منگوائی جانے والی کل گاڑیوں میں سے دو لاکھ سے زائد کا تعلق صرف فرانس سے ہے۔
واضح رہے کہ سٹیلنٹیس جو کہ سنہ 2021 میں فرانس کے پی ایس اے گروپ اور اطالوی امریکی کمپنی فیاٹ کرسلر کے انضمام سے وجود میں آئی تھی، حالیہ دنوں میں ایئربیگز اور انجن کے دیگر مسائل کی وجہ سے بھی اپنی مختلف گاڑیوں کو واپس منگوا چکی ہے۔
تاہم تازہ ترین مسئلہ ان چھوٹی ہائبرڈ گاڑیوں میں سامنے آیا ہے جہاں ایندھن پر چلنے والے انجن اور الیکٹرک موٹر کو ایک دوسرے کے بہت قریب نصب کیا گیا ہے۔
سٹیلنٹیس سنہ 2021 میں فرانس کے پی ایس اے گروپ اور اطالوی امریکی کمپنی فیاٹ کرسلر کے انضمام سے وجود میں آئی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
تکنیکی تفصیلات کے مطابق زیادہ نمی والے ماحول میں ان گاڑیوں کے دو چھوٹے پرزے ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کی وجہ سے شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
سٹیلنٹیس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سنگین پیچیدگی نہیں ہے اور محض ایک چھوٹے سے پرزے کی تبدیلی کے ذریعے اسے چند منٹوں میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
جرمن ریگولیٹر کے بی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اس فیصلے سے سب سے زیادہ پیوجو کی 208 اور 2008 ماڈل کی قریباً دو لاکھ 95 ہزار گاڑیاں متاثر ہوں گی۔
اس کے علاوہ سیٹروئن کی مختلف اقسام کی ایک لاکھ 26 ہزار، فیاٹ گرانڈے پانڈا کی ایک لاکھ 24 ہزار، الفا رومیو جونیئر کی 44 ہزار اور جیپ ایونجر کی 88 ہزار گاڑیاں اس فالٹ کی وجہ سے واپس طلب کی گئی ہیں۔