ایرانی جارحیت خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ: سعودی وزیر داخلہ
حملوں نے شہریوں اور اہم انفرا سٹرکچر کو خطرے میں ڈال دیا ہے (فوٹو: ایس پی اےٌ
سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے بدھ کو عرب وزرائے داخلہ کے ورچوئل اجلاس میں مملکت کے وفد کی سربراہی کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف، اس وقت عرب وزرائے داخلہ کے اعزازی صدر بھی ہیں۔
سعودی وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا’ یہ اجلاس ایسی علاقائی صورتحال میں ہو رہا ہے، جب کئی عرب اور علاقائی ملکوں پر ایران کے حملے جاری ہیں۔‘
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا، جس نے شہریوں اور اہم انفرا سٹرکچر کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس طرح کی جارحیت، خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اسے کسی بھی بہانے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ ایران کے اقدامات کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے، جو بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی اور عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
انہوں نے اپنے خطاب میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، انتہا پسندی، دہشت گردی اور سائبر جرائم کو اجاگر کیا۔

ان کا کہنا تھا ’بین الاقوامی منظم نیٹ ورک تیار ہو رہے ہیں۔ مصنوعی منشیات کی معیشت بڑھ رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو خصوصا تباہ حال یا تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں انتہا پسندی، منی لانڈرنگ اور انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ان ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے ایک کثیر الجہتی فریم ورک کی ضرورت ہے، جس میں انسانی، تیکنیکی اور سماجی صلاحیتں شامل ہوں۔
