Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ جہاں حج سیزن کے دوران عالمی زبانیں بولی جاتی ہیں

اردو، انڈونیشیائی، ترکی اور بے شمار دوسری زبانیں سننے کو ملتی ہیں۔( فوٹو: ایس پی اے)
حج سیزن میں مکہ ایک عالمی اجتماع کا روپ دھار لیتا ہے جہاں عربی زبان کے ساتھ ساتھ، اردو، انڈونیشیائی، ترکی، فارسی، بنگالی، انگریزی، فرانسیسی، سواہیلی اور بے شمار دوسری زبانیں سننے کو ملتی ہیں۔
یہ اجتماع، دینِ اسلام کی آفاقیت اور مختلف اور متنوع ثقافتیں رکھنے کے باوجود، مسلم دنیا کے اتحاد کو اجاگر کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مسجدالحرام اور مسجدِ نبوی کے امور کی ذمہ دار جنرل اتھارٹی منارۃ الحرمین کے پلیٹ فارم اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے مسجد الحرام میں دیے جانے والے خطبات کی بیک وقت دس سے زیادہ زبانوں میں تشریح پیش کرتی ہے۔
اس کے علاوہ اتھارٹی کی جانب سے وائرلیس ہیڈ فونز کے ذریعے پچاس سے زیادہ زبانوں میں ثقافتی رہنمائی اور ڈیجیٹل رہنمائی کے لیے کارڈ بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

ترجمے کے لیے خاص طور پر مخصوص کتابوں، بروشرز، راستہ بتانے والے سائن بورڈ اور مسجد الحرام کے اندر الیکٹرونک سکرینیں نصب کی گئی ہیں۔
یہاں قرآنِ پاک کے نسخہ جات اور ان کے کئی  زبانوں میں تراجم اور تشریح بھی لوگوں کو فراہم کیے جاتے ہیں۔

مشاعرِ مقدسہ پر ایسی ٹیموں کو مامور کیا گیا ہے جو کئی زبانوں سے واقف ہیں جبکہ رضا کاروں کی ایک بڑی تعداد بھی حجاجِ کرام سے رابطے کے لیے موجود موقع پر موجود ہوتی ہے۔
یہ خدمتگار کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور حجاج کو صحت، تنظیمی امور اور مذہبی رہنمائی دیتے ہیں تاکہ لوگ محفوظ رہیں اور بغیر کسی مشکل کے مذہبی رسوم ادا کر سکیں۔

 

شیئر: