ایکو ٹورازم: سبز چراگاہیں اور صحرائی خوبصورتی رفحا کی نئی پہچان
موسمِ بہار کا رنگا رنگا ماحولیاتی تنوع، نگاہوں کا مرکز بن جاتا ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
رفحا کمشنری کے وسیع و عریض سبزہ زاروں اور چراگاہوں میں اونٹوں کے ریوڑوں کی نقل و حرکت، محسُور کُن قدرتی مناظر کی تصویر کشی کرتی ہے، جس سے اِس علاقے میں موسمِ بہار کا رنگا رنگا ماحولیاتی تنوع، نگاہوں کا مرکز بن جاتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بارشوں کے موسم کے اختتام پر یہ مقامات، جنگلی نباتات سے بھر جاتے ہیں۔
جس کے باعث یہاں کی لہلہاتی ہری بھری چراگاہیں، رفحا کے گرد و نواح میں پھیلے ہوئے ویرانوں کو ایک ایسی سیاحتی منزل میں بدل کے رکھ دیتے ہیں جو قدرتی حسن کے شوقین افراد اور ہائیکرز کے دلوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔
یہ دلفریب مناظر، صحرا کے سفر کے شوقین افراد اور فوٹوگرافرز کو اپنی طرف کھینچتے ہیں جو اونٹوں کے قدرتی ٹھکانوں میں بھوک مٹانے اور چارہ کھانے کے منظروں کو دستاویزات میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ مناظر صحرائی حیات میں پائی جانے والی ہم آہنگی کی بھی نمایاں کرتے ہیں اور علاقے کی زرخیز قدرتی خصوصیات کے ذریعے معاشی سیاحت کو فروغ دیتے ہیں۔
مملکت کی ثقافتی اور سماجی تاریخ کی مستند علامت کے طور پر، اونٹ صبر، طاقت اور زمین سے گہرے رشتے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

آج کل حدودِ شمالیہ کے علاقوں میں لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں جس سے اِن خوبصورت ویرانوں کی افادیت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ قومی ورثے کی موجودگی میں اضافہ اور معاشی سیاحت کے شعبے میں تعاون کی راہیں کھلتی ہیں۔
