Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لیبیا کشتی حادثے میں مطلوب انسانی سمگلر کو ایف آئی اے نے کیسے گرفتار کیا؟

ایف آئی اے ہائی پروفائل ملزم وقاص علی کو گرفتار کرنے کے لیے اس سے پہلے بھی کئی کوششیں کر چکی ہے۔ (فائل فوٹو: ایف آئی اے)
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے افسر کے موبائل پر ایک میسج نمودار ہوا اور اس کے بعد جیسے بھونچال آ گیا۔ اعلٰی افسران کو اطلاع پہنچائی گئی اور کچھ ہی وقت میں ایک ریڈنگ پارٹی گجرات کے ایک گاؤں ماجرا شمائل کی جانب رواں تھی۔ گاؤں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر نفری تعینات کر دی گئی تھی۔ اور پھر اس مخصوص گھر پر ریڈ کی گئی اور کئی برسوں سے مطلوب مبینہ انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے نے گجرات میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جسے پاکستان کے انسانی سمگلنگ کے بڑے ملزمان میں شمار کیا جا رہا تھا۔ یہ ملزم ہیں وقاص علی عرف وقاص بٹ، جن کا نام ایف آئی اے کی انسانی سمگلروں سے متعلق 2025 کی ریڈ بک میں شامل تھا، کئی مقدمات میں مطلوب تھا، اور سنہ 2023 کے لیبیا۔یونان سمندری راستے کے حادثے میں بھی یہ مرکزی ملزم تھا۔
وقاص ایف آئی اے کو کئی برسوں سے چکما دے رہا تھا لیکن ایک طویل عرصے بعد وہ چھپ کر اپنے گھر پہنچے تو چند ہی گھنٹوں میں وہ ادارے کی تحویل میں تھا۔ اسے پہلی مرتبہ سنہ 2023 کی ریڈ بک میں شامل کیا گیا۔ یہ فہرست انسانی سمگلروں اور مطلوب افراد کے بارے میں مرتب کی جاتی ہے۔

وقاص بٹ کون ہے؟

دستیاب سرکاری مواد سے وقاص علی کی شناخت کے چند خدوخال ابھرتے ہیں۔ اس کا پورا نام وقاص علی ولد صفدر علی ہے اور تعلق گجرات کے علاقے ماجرا شمائل سے تعلق ہے۔ یہ پولیس کی ایلیٹ فورس میں بطور کمانڈو فرائض بھی ادا کر چکا ہے۔ تاہم اسے انسانی سمگلنگ کے الزامات سامنے آنے کے بعد ہونے والی انکوائریوں میں قصور وار قرار دیتے ہوئے نوکری سے سنہ 2023 میں برخاست کر دیا گیا تھا۔
وقاص علی پر ویسے تو کئی طرح کے الزامات ہیں لیکن سنہ 2023 کے لیبیا کشتی حادثے میں لوگوں سے خطیر رقم لے کر ان کی جانوں سے کھیلنے کا الزام سب سے بڑا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق وہ متاثرہ خاندانوں سے فی فرد تقریباً 30 لاکھ روپے لیتا تھا۔ جبکہ چار افراد سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کر رکھے تھے جس کا مقدمہ بھی زیرِسماعت ہے۔

جب ایف آئی اے اہلکار زخمی ہوئے

ایف آئی اے ہائی پروفائل ملزم وقاص علی کو گرفتار کرنے کے لیے اس سے پہلے بھی کئی کوششیں کر چکی ہے۔ اس برس جنوری میں اسے پکڑنے کے لیے اسی جگہ گھر میں چھاپا مارا گیا۔ تھانہ کاریانوالہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ایک ٹیم نے گجرات کے علاقے مجرا شمائل میں چھاپہ مارا، مگر اس دوران وقاص علی نے مزاحمت کی، اہلکاروں پر حملہ کیا اور بعض کو زخمی کیا۔ ان کے خلاف اقدام قتل سمیت کئی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ کر لیا گیا۔
تاہم اب اپریل میں وہ دوبارہ اپنے گھر آیا تو اس بار اسے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے لیے جانے والی ایف آئی اے ٹیم کے ایک افسر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسا کیس تھا جو کئی حوالوں سے ٹیسٹ کیس بن گیا تھا۔ یہ ملزم نہ تو اپنا کوئی فون استعمال کر رہا تھا اور نہ کوئی سم اور نہ شناختی کارڈ۔ اس کے پاس پیسے ختم ہوتے تھے تو یہ واپس اپنے گھر میں آ کر پیسے لیتا تھا، آخری دفعہ بھی ایسا ہی تھا۔ اس گاوں میں ایف آئی اے کے مخبر ہر وقت موجود ہوتے ہیں، تو جیسے ہی مخبر نے اطلاع دی کہ وقاص اپنے گھر آیا تو ہماری تیاری مکمل تھی، اور پھر ہم نے بغیر تاخیر کے اسے گرفتار کر لیا۔ اس سے پہلے جو کوشش کی گئی تھی اس میں کامیابی نہ ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ چند اہلکاروں پر مشتمل ٹیم تھی جن کو چکما دے کر یہ فرار ہو گیا تھا۔ لیکن اس بار ہم نے ایسا کوئی موقع نہیں دیا۔‘

 

شیئر: