جنگ سے متعلق اے آئی تصاویر و ویڈیوز،’حقیقی خبروں پر بھی اعتماد ختم ہو رہا ہے‘
جنگ سے متعلق اے آئی تصاویر و ویڈیوز،’حقیقی خبروں پر بھی اعتماد ختم ہو رہا ہے‘
جمعہ 3 اپریل 2026 12:15
جنگ سے متعلق جعلی مواد نے وسیع پیمانے پر صارفین کی توجہ حاصل کی (فوٹو: سکرین شاٹ)
ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے باعث حقیقی خبروں پر سے بھی لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ ایسی ویڈیوز کی مثال کے طور پر دبئی کے برج خلیفہ کی اس فوٹیج کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں اس کو دھوئیں کے بادلوں میں گھرا اور گرتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس ویڈیو کی چینکگ اور ڈی بنک کیے جانے تک اس کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد صارفین دیکھ چکے تھے۔
کچھ عرصہ پیشتر جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک ایرانی حملے میں ہلاکت یا زخمی ہونے کے حوالے سے قیاس آرائیاں سامنے آئیں تو اسرائیلی حکومت نے ان کی تین ویڈیوز جاری کیں، جن میں سے ایک کافی شاپ کے اندر کی تھی۔
اس کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا ایسا دعوے کیے جانے لگے کہ وہ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیو ہے کیونکہ ویڈیو میں ان کی چھ انگلیاں نظر آ رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حقیقی ویڈیو نہیں ہے۔
اس وقت ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ’میں نے چیک کیا ہے انسانوں کی عام طور پر چھ انگلیاں نہیں ہوتیں اور یہ اے آئی سے کیا گیا ہے۔‘
اسی پوسٹ میں آگے جا کر سوال اٹھایا گیا تھا کہ ’کیا نیتن یاہو نہیں رہے؟‘
ایکس پر پوسٹ ہونے والے جنگی مواد کو ایک ارب سے زائد ویوز ملے (فوٹو: ایکس)
اس پوسٹ نے 50 لاکھ سے زائد صارفین کو متوجہ کیا۔ حقیقت میں وہ فوٹیج درست تھی اور اضافی انگلی کا نظر آنا روشنی کی سمت کی وجہ سے ہو رہا تھا۔
غلط معلومات پر نظر رکھنے والے نشاندہی کرنے والے ادارے نیوز گارڈ سے تعلق رکھنے والی صوفیہ روبنسن کا کہنا ہے کہ ’اے آئی ڈیپ فیک کا بڑھنا اور اصل مواد کو مسترد کیا جانا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جب جعلی چیزوں کی بہتات ہوتی ہے تو یہ یقین کرنا آسان ہو جاتا ہے کچھ بھی جعلی ہو سکتا ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق اس صورت حال کو ’اے آئی سلوپ‘ کہا جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ٹیک پلیٹ فارمز ایسے مواد کی بھرمار ہو جاتی ہے جن کو انتہائی صفائی سے بنایا گیا ہوتا ہے اور اس کے سامنے آنے کے بعد اس مواد پر بھی شکوک و شبہات آنا شروع ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں اصل ہوتا ہے۔
ایک اے آئی ویڈیو میں برج خلیفہ کو جلتے اور گرتے ہوئے دکھایا گیا (فوٹو: سکرین شاٹ)
اس بارے میں لندن انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ نے کہا ہے کہ ایکس پر جنگ کے حوالے سے اے آئی مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کو ایک ارب سے زائد ویوز ملے ہیں۔
میٹا کے اوورسائٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا خیال ہے کہ ٹیک پلیٹ فارم اس ضمن میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کر رہے کہ صارفین کو بتا سکیں کہ کون سال مواد جعلی اور کون سا حقیقی۔‘
بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’جعلی مواد تشدد کو ہوا دے کر مزید تنازعات کا باعث بنتے ہوئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘