’روتے امریکی فوجی، جَلتے سفارت خانے‘، ایکس پر اے آئی جنریٹڈ جنگی مواد کی بھرمار
’روتے امریکی فوجی، جَلتے سفارت خانے‘، ایکس پر اے آئی جنریٹڈ جنگی مواد کی بھرمار
پیر 16 مارچ 2026 13:46
کچھ ویڈیوز میں فلک بوس عمارتوں کو جلتے ہوئے دکھایا گیا ہے (فوٹو: ایکس)
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایسی اے آئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں امریکی فوجیوں کی ایرانی حراست میں موجودگی کے علاوہ جلتے ہوئے اسرائیلی شہر اور امریکی سفارت خانے دکھائے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مواد ایسے وقت میں سامنے تیزی سے پھیل رہا ہے جب حکام کی جانب سے جنگ کے دنوں میں غلط معلومات کی گردش روکنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران جس قسم کا اے آئی جنریٹڈ مواد سامنے آیا ہے ماضی میں کسی بھی جنگ کے موقع پر ایسا نہیں دیکھا گیا اور اس کی وجہ سے سوشل میڈیا صارفین اس سوچ پڑ جاتے ہیں کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔
جنگ کے دوران ’مستند معلومات‘ کے تحفظ کے حوالے سے پچھلے ہفتے ایکس کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ جو صارفین جنگ سے متعلق مواد شیئر کرتے ہوئے یہ نہیں بتائیں گے ’یہ اے آئی ہے‘ تو ان کے اکاؤنٹس کو 90 روز کے معطل کر دیا جائے گا۔
فیک ویڈیوز میں کچھ حقیقی ویڈیوز کے ٹکڑے بھی شامل کیے جاتے ہیں اور ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کو چیک کرنے والے پروفیشنل فیکٹ چیکرز کی تعداد کم پڑ رہی ہے۔
ایکس کی ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ 90 روز کی معطلی کے بعد بھی اگر خلاف ورزی کی جاتی ہے تو ان اکاؤنٹس کو مستقل طور پر بند کیا جائے گا۔
ایلون مسک نے جب سے ایکس خریدا ہے تب سے ان کو غلط معلومات کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے (فوٹو: ڈیجیٹل واچ)
یہ نئی پالیسی اس پلیٹ فارم کے بہت اہم ہے جس پر غلط معلومات کی شیئرنگ کے حوالے سے سخت تنقید کی جا رہی ہے اور یہ تب سے ہو رہا ہے جب ایلون مسک نے 2022 میں اس کو 44ارب ڈالر میں خریدا تھا۔
اس پلیٹ فارم نئی پالیس کو محکمہ خارجہ کی سینیئر اہلکار سارہ راجرز کی جانب سے سراہا گیا ہے تاہم دوسری جانب محققین اب بھی شکوک و شبہات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ سے تعلق رکھنے والے جو بوڈنار کا کہنا ہے کہ میں نے جن بھی فیڈز کا مشاہدہ کیا ہے وہ اب بھی جنگ سے متعلق مواد سے بھری ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق ’ایسا لگ ہی نہیں رہا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی گئی گمراہ کن ویڈیوز کو آگے بڑھانے سے روکا گیا ہے۔‘
انہوں نے ’بلیو چیک‘ نامی ایکس کے ایک اکاؤنٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا کہ کہ اس پر ایک ایسا کلپ شیئر کیا گیا ہے جس میں اسرائیل فوج کے ایران کی جوہری صلاحیت پر حملے کو دکھایا گیا ہے۔
ان ویڈیوز کو انتظامیہ کی جانب سے کریک ڈاؤن کے حوالے شائع کیے گئے پیغامات سے زیادہ ویوز ملے ہیں۔
ایکس سے جب یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ اے آئی ویڈیوز کے خلاف کارروائی کے اعلان کے بعد سے اب تک کتنے اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے۔ تو اس کا فوری طور پر جواب نہیں دیا گیا۔
ایکس انتظامیہ نے جھوٹا مواد شیئر کرنے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے (فوٹو: ٹیک کو)
عالمی سطرح پر کام کرنے والے اے ایف پی کے فیکٹ چیکرز نے ایسی کئی اے آئی ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے جو ایکس کے پریمیم اکاؤنٹس سے شیئر ہوئیں جو نیلا رنگ رکھتے ہیں اور ان کو خریدا جا سکتا ہے۔
ان میں ایک ایسی ویڈیو بھی شامل ہے جس میں ایک تباہ حال سفارت خانے کی عمارت میں امریکی فوجی رو رہا ہے جبکہ امریکی فوجیوں کو ایرانی جھنڈوں کے آگے گھٹنوں کے بل دکھایا گیا ہے۔
اسی طرح ایکس کا فیکٹ چیک چیٹ بوٹ گروک بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا دکھائی دے رہا ہے اور کئی اے آئی مناظر کو حقیقی قرار دیا۔
محققین نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ ایکس کے پریمیم اکاؤنٹس کو انگیجمنٹس کے حساب سے ادائیگی ہوتی ہے اس لیے پیسوں کے چکر میں بھی سنسنی خیز اور غلط معلومات شیئر کی جاتی ہیں۔
ایک پریمیم اکاؤنٹس جس پر شعلوں میں لپٹی ہوئی دبئی کے برج خلیفہ کی فلک بوس عمارت کی ویڈیو شیئر کی گئی، اس کی جانب سے ایکس انتظامیہ کے اعلان کو نظرانداز کیا گیا اور وہ اے آئی ویڈیو ہوتے ہوئے بھی اکاؤنٹ پر موجود رہی جبکہ 20 لاکھ ویوز تک بھی پہنچی۔