Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنگلہ دیش میں قربانی کے بیل ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کے چرچے، شہری ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بے تاب

ضیاالدین مردھا گزشتہ ایک سال سے اپنے چار سالہ بیل کی دیکھ بھال کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش میں لوگ ایک غیر متوقع سوشل میڈیا سٹار کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے جوق در جوق آرہے ہیں اور یہ ایک البینو (سفید رنگت والا) بیل ہے جس کے لمبے سنہرے بال ہیں، اور جسے اس کے انداز کی وجہ سے ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کا لقب دیا گیا ہے، اور چند ہی دنوں میں اس کی قربانی کر دی جائے گی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بیل کے مالک 38 برس کے ضیاالدین مردھا نے کہا کہ ’ان کے بھائی نے اس قریباً 700 کلوگرام وزنی بیل کا یہ نام اس کے لہراتے لمبے بالوں کی وجہ سے رکھا، جو امریکی صدر کے مخصوص انداز سے مشابہ ہیں۔‘
انہوں نے دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں واقع اپنے فارم پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے چھوٹے بھائی نے یہ نام بیل کے غیرمعمولی بالوں کی وجہ سے رکھا۔‘
ضیا الدین مردھا کے مطابق مئی میں متجسس شہریوں کی بڑی تعداد، سوشل میڈیا کے شائقین، عام لوگ اور بچے انٹرنیٹ پر شہرت حاصل کرنے والے اس سٹار کو دیکھنے کے لیے آتے رہے۔
انہوں نے دیکھا کہ ’کچھ لوگ بیل کے سر پر ٹھنڈے پانی کی بالٹی ڈال رہے ہیں، اور اس کے سنہرے بالوں کو گلابی برش سے سنوار رہے ہیں، جو اس کے خم دار بڑے سینگوں کے درمیان خوب صورتی سے جمے ہوئے ہیں۔‘
ضیاالدین مردھا نے کہا کہ ’اس کی واحد عیاشی یہی ہے کہ اسے دن میں چار بار نہلایا جاتا ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ بیل اور امریکی صدر کے درمیان مشابہت صرف بالوں تک محدود ہے۔

البینو بیل انتہائی نایاب ہوتے ہیں، اور ان میں میلانین کی کمی کے باعث ان کا رنگ سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

محکمۂ لائیوسٹاک کے حکام کے مطابق البینو بیل انتہائی نایاب ہوتے ہیں، اور ان میں میلانین کی کمی کے باعث ان کا رنگ سفید یا گلابی دکھائی دیتا ہے۔
عید الاضحیٰ
17 کروڑ کی آبادی کے حامل مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش اس ماہ کے آخر میں عید الاضحیٰ یعنی ’قربانی کے تہوار‘ کی تیاری کر رہا ہے۔
اس موقع پر ایک کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ مویشی قربان کیے جانے کی توقع ہے جن میں بکریاں، بھیڑیں، گائیں اور بیل شامل ہیں، اور اس دوران بہت سے غریب خاندانوں کو بھی گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔
ضیاالدین مردھا نے بتایا کہ ’ہجوم کے دباؤ کی وجہ سے بیل کا وزن کم ہو گیا ہے، جس کے باعث اس کی عوامی نمائش پر پابندیاں لگانا پڑیں۔‘
اس کے باوجود بچے اب بھی دروازوں سے جھانک کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
30 سال کے تاجر فیصل احمد بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو قریب جا کر اس بیل کے ساتھ تصاویر لینے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بیل اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خدوخال میں واقعی مماثلت ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میرے بھتیجے نے صرف ‘ڈونلڈ ٹرمپ’ کو دیکھنے کے لیے ایک گھنٹے کشتی کا سفر کیا۔‘
قربانی دینا
اگرچہ یہ ’ٹرمپ‘ بیل آن لائن قومی شہرت حاصل کر چکا ہے، لیکن یہ واحد ایسا بیل نہیں جس کی کوئی عرفیت ہو۔

شہری دور دراز سے ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کے نام سے مشہور بیل کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے آرہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اس کے ساتھ موجود دیگر جانوروں میں ایک جارح مزاج بیل ’طوفان‘، ایک بہت بڑی جسامت والا جانور ’فیٹ بوائے‘، اور نرم مزاج کا حامل ’سویٹ بوائے‘ شامل ہیں۔
ایک سنہری بالوں والے بیل کا نام بھی اس کے بالوں کی وجہ سے ہی برازیلی فٹبالر نیمار کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ضیاالدین مردھا گذشتہ ایک سال سے اپنے چار سالہ بیل کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، وہ اسے چارہ کھلاتے ہوئے محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کی کمی محسوس ہوگی، لیکن قربانی دینا ہی تو عید الاضحیٰ کی اصل روح ہے۔‘

شیئر: