پاکستان انڈیا لڑائی اور اے آئی مواد، ’بات جوہری جنگ کی طرف جا سکتی تھی‘
پاکستان انڈیا لڑائی اور اے آئی مواد، ’بات جوہری جنگ کی طرف جا سکتی تھی‘
جمعرات 22 جنوری 2026 5:29
پچھلے برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چند روز کی لڑائی ہوئی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
سویڈن کے مشہور تھنک ٹینک نے انکشاف کیا ہے کہ پچھلے برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والا تنازع مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بنائی گئی غلط معلومات سے متاثر ہوا تھا اور جوہری پڑوسیوں کے درمیان تنازع ’بڑی آسانی سے‘ ایٹمی جنگ تک پھیل سکتا تھا۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ پر منگل کو ’ملٹی ڈومین نیوکلیئر اسکلیشن رسک‘ کے نام سے شائع ہونے والے تحقیقی پالیسی پیپر میں مختلف ممالک کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگوں کا تجزیہ کیا گیا ہے جن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی لڑائی کے علاوہ ایران میں اسرائیل کے آپریشن اور روس و یوکرین میں ہونے والی جنگ بھی شامل ہیں۔
مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے بیچ ہونے والی لڑائی کے حوالے سے پالیسی پیپر میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی اور پھیلائی گئی اطلاعات نے جنگی میدان کی صورت حال کو مسخ کر کے پیش کیا۔
’اے آئی سے پھیلائی گئی ڈس انفارمیشن آسانی سے صورت حال کو ایک گمبھیر تنازع کی طرف لے جا سکتی تھی، جس میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان براہ راست جوہری تصادم کا امکان بھی موجود تھا۔‘
رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ اے آئی سے تیار کی گئی ایسی چیزیں آئندہ بھی میدان جنگ کی اصل صورت حال کو دھندلا سکتی ہیں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے تزویراتی حساب کتاب کو متاثر کرسکتی ہیں۔
تھیک ٹینک کا کہنا ہے کہ تنازع کے دوران اے آئی مواد سے بہت غلط معلومات پھیلائی گئیں (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی جانب سے کیے گئے آپریشن سندور کے موقع پر جھوٹے مواد سے بننے والے ماحول کو رپورٹ میں ’سنسنی خیزی کا میلہ‘ قرار دیا گیا ہے جس میں مصنوعی طور پر تیار کیے گئے مواد کو غلط طور پر فوجی کامیابیوں اور علاقائی فتوحات کی صورت میں پیش کیا گیا اور دونوں ملکوں کا میڈیا بھی اس سے متاثر نظر آیا۔
خیال رہے 22 اپریل 2025 کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملہ ہوا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔
انڈیا کی جانب سے اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی رہی۔
پھر انڈیا نے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے چلے آنے والے آبی معاہدے سندھ طاس کو معطل کرنے کی دھمکی دی جس سے صورت حال مزید خرابی کی طرف گئی اور پاکستان نے دھمکی کہ اگر پانی روکا گیا تو اسے اقدام جنگ سمجھا جائے گا۔
جنگ بندی کے باوجود بھی پڑوسی ممالک کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پھر سات مئی کو انڈیا کی جانب سے پاکستان کے اندر کئی مقامات پر حملے کیے گئے اور اگلے روز انڈیا کے فوجی حکام نے اس حوالے سے پریس کانفرنس بھی کی۔
پاکستان نے اس کا جواب دینے کا اعلان کیا اور نو اور دس مئی کو انڈیا کے اندر کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور دونوں ممالک نے مختلف شہروں میں ایک دوسرے کی طرف سے بھیجے گئے ڈرون گرانے کے دعوے بھی کیے۔
تاہم اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک سامنے آئے اور کہا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کے لیے تیار ہیں اور اس کے بعد سیز فائر ہو گیا جو اب تک برقرار ہے تاہم پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات اب بھی معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔