Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے ساتھ تصادم میں شدت: امریکی جنگی طیارے مار گرائے گئے، لاپتہ عملے کی تلاش شروع

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے (فائل فوٹو: ایئر فورس)
ایران کے ساتھ جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہوتے ہی محاذِ جنگ سے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔
 جمعے کے روز دو مختلف واقعات میں امریکہ کے دو جنگی طیارے مار گرائے گئے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی میں سنگین اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ کم از کم ایک اب بھی لاپتہ ہے جس کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ اتحادی افواج کو ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
ایف-15 ای اور اے-10 وار تھوگ کو نشانہ بنایا گیا
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی حصے میں امریکی فضائیہ کے جدید ترین ’ایف-15 ای سٹرائیک ایگل‘ کو دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لاپتہ پائلٹس کی تلاش کے لیے بھیجے گئے دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر بھی ایرانی فورسز نے فائرنگ کی تاہم وہ بحفاظت ایرانی حدود سے نکلنے میں کامیاب رہے۔
دوسرے واقعے میں ایک ’اے-10 وار تھوگ‘ لڑاکا طیارہ ایرانی فائر کی زد میں آ کر کویت کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا، تاہم اس کا پائلٹ بروقت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔

ایرانی شہری سوشل میڈیا پر امریکی طیاروں کے گرائے جانے کا جشن منا رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پینٹاگون نے علاقے میں طیارہ گرنے کی تصدیق کی ہے لیکن مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔
انعام کا اعلان اور عوامی ردعمل
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے تباہ شدہ طیارے کے ملبے کے قریب سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ صوبہ کہگیلویہ و بویراحمد کے حکام نے مقامی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاپتہ امریکی عملے کی تلاش میں مدد کریں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک پریزنٹر نے اعلان کیا کہ ’جو کوئی بھی دشمن کے پائلٹ کو زندہ پکڑ کر حوالے کرے گا، اسے قیمتی انعام دیا جائے گا۔‘
ایرانی شہری جو گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکی فضائی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ان طیاروں کے گرائے جانے کا جشن منا رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ’ایکس‘ پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اب ’حکومت کی تبدیلی‘ سے پیچھے ہٹ کر ’پائلٹس کی تلاش‘ تک محدود ہو گئی ہے۔

پاکستان کی قیادت میں جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’ممکنہ مذاکراات پر اثر نہیں پڑے گا‘
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریسکیو آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لے رہے ہیں۔
این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ  ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طیاروں کے نقصان سے تہران کے ساتھ کسی ممکنہ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ’یہ ایک جنگ ہے۔‘
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی اس مہم میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے خلیج میں توانائی کی تنصیبات اور اسرائیل پر ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وال سٹریٹ جنرل کے مطابق پاکستان کی قیادت میں جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں اور ایران نے باضابطہ طور پر ثالثی کے لیے سرگرم فریقوں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عالمی معیشت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

شیئر: