آبنائے ہُرمز میں ٹول کا نظام ناقابلِ قبول، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے پُرامید ہیں: امریکی وزیرِ خارجہ
مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہُرمز میں ٹولنگ سسٹم نافذ کیا گیا تو ایران سے معاہدے کا امکان ختم ہو جائے گا (فوٹو: اے پی)
امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تہران نے اگر آبنائے ہرمز میں ٹولنگ سسٹم نافذ کیا تو امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی سفارتی معاہدے کا امکان ختم ہو جائے گا۔‘
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’دنیا کسی بھی ٹولنگ سسٹم کے حق میں نہیں ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناقابلِ قبول ہوگا۔ وہ اگر اس راستے پر چلتے رہے تو سفارتی معاہدہ ممکن نہیں رہے گا۔ یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور مکمل طور پر غیرقانونی ہے۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرنا ہے، تاہم امریکہ ایک ایسے نظام سے نمٹ رہا ہے جو خود اندرونی طور پر کسی حد تک تقسیم کا شکار ہے۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’کچھ اچھی علامات ہیں، لیکن میں ضرورت سے زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتا۔ دیکھتے ہیں آنے والے چند دنوں میں کیا ہوتا ہے۔‘
انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ پاکستان کے آرمی چیف کا دورۂ ایران اس جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا، اور کہا کہ کچھ پیش رفت ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ پاکستانی حکام آج تہران جا رہے ہیں، امید ہے کہ اس سے معاملہ آگے بڑھے گا۔‘
مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو اتحاد کے حوالے سے مذاکرات میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کی اور کہا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی جنگ میں امریکہ کی حمایت نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ نہیں چاہتے کہ نیٹو ممالک اپنے لڑاکا طیارے بھیجیں، لیکن وہ کسی بھی قسم کی مدد کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔‘
مارکو روبیو کے مطابق، ’ہم اس پر بہت ناراض ہیں۔‘
