Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے جمعرات کو آبنائے ہرمز پر تہران کی خودمختاری کے دعوے کو دہرایا۔ (فوٹو: اے پی)
پاکستان نے جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں بڑھا دیں، جبکہ تہران نے جوہری معاملے پر اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر انہیں ’دُرست جواب‘ نہ ملا تو وہ دوبارہ حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے علاقائی صورت حال کا جائزہ لیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکانات پر گفتگو کی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو نافذ ہوئے چھ ہفتے گزر چکے ہیں، مگر جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو ہوا دے رہی ہیں اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اندرونی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان کی مقبولیت کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔
جاری مذاکرات سے واقف تین ذرائع نے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر جمعرات کو یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ ثالثی کے لیے تہران جائیں گے یا نہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ ’ہم ایران کے مختلف گروہوں سے رابطے میں ہیں تاکہ رابطہ کاری کو بہتر بنایا جا سکے اور معاملات میں تیزی آئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ کا صبر کم ہونا تشویش کا باعث ہے، لیکن ہم اس رفتار پر کام کر رہے ہیں جس سے دونوں جانب سے پیغامات پہنچائے جا رہے ہیں۔‘

ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے علاقائی صورت حال کا جائزہ لیا (فوٹو: ارنا)

ایران کی خبر رساں ایجنسی اثنا نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر مشاورت کے لیے جمعرات کو تہران جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں زیرِِغور متن عمومی فریم ورک، بعض تفصیلات اور اعتماد سازی کے اقدامات پر مشتمل ہے۔
تاہم ایران نے امریکہ کے ایک اہم مطالبے، یعنی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے، پر اپنا مؤقف سخت کر لیا ہے۔
دو سینیئر ایرانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کا قریباً ہتھیار بنانے کے درجے کا افزودہ یورینیم بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں قریباً دو فیصد اضافہ ہوا اور یہ 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

امریکہ فوری کارروائی کے لیے تیار ہے، صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ تہران کے جواب کا انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ساتھ ہی دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے بھی آمادہ ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ ’یقین کریں، اگر ہمیں دُرست جواب نہ ملا تو کارروائی بہت تیزی سے ہوگی۔ ہم پوری طرح تیار ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنا انتظار کریں گے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا، ’چند دن بھی ہوسکتے ہیں، لیکن معاملات بہت جلد بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دوبارہ حملوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اگر ایران کے خلاف جارحیت دہرائی گئی تو علاقائی جنگ اس بار خطے سے باہر تک پھیل جائے گی۔‘

قریباً تین ماہ سے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہونے کے باعث توانائی کی قلت بڑھ رہی ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)

ایران نے رواں ہفتے امریکہ کو اپنی تازہ تجویز جمع کرائی ہے۔
تہران کی وضاحتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں بڑی حد تک وہی شرائط دہرائی گئی ہیں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ پہلے مسترد کر چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی نقصانات کا معاوضہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی اور امریکی افواج کا انخلا شامل ہیں۔

ایران نے آبنائے ہرمز پر خودمختاری کا مؤقف دہرایا

ایران کے نائب وزیر خارجہ نے جمعرات کو آبنائے ہرمز پر تہران کی خودمختاری کے دعوے کو دہرایا۔ اس آبی گزرگاہ سے دنیا کا 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور بعض علاقائی ممالک کی جارحیت نے اس علاقے کی سکیورٹی صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
تقریباً تین ماہ سے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہونے کے باعث توانائی کی قلت بڑھ رہی ہے، جس سے دنیا بھر میں قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے اسے دنیا کا بدترین توانائی بحران قرار دیا ہے۔
آئی ای اے  نے جمعرات کو خبردار کیا کہ گرمیوں میں ایندھن کی طلب میں اضافے اور مشرق وسطیٰ سے نئی سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے جولائی اور اگست میں مارکیٹ ’خطرناک مرحلے‘ میں داخل ہو سکتی ہے۔
 

شیئر: