Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ امدادی فلوٹیلا، اسرائیلی ملک بدری کے بعد کارکنوں کا پہلا گروپ ترکیہ پہنچ گیا

پچھلے ہفتے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تحت قریباً 50 بحری جہاز ترکیہ سے روانہ ہوئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا (بحری قافلے) سے حراست میں لیے گئے تمام غیر ملکی سرگرم کارکنوں کو ملک بدر کیے جانے کے بعد، ان کا پہلا گروپ ترکیہ پہنچ گیا ہے۔
 خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حراست کے دوران کارکنوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر عالمی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی علاقے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی تازہ ترین کوشش کے دوران پیر کو سمندر میں روکے جانے کے بعد دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کارکنوں کو اسرائیل میں نظربند کر دیا گیا تھا۔
 ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق 85 ترک شہریوں سمیت 422 کارکنوں کو انقرہ کی طرف سے چارٹرڈ کیے گئے تین طیاروں کے ذریعے جنوبی اسرائیل سے روانہ کیا گیا۔
’فریڈم فلوٹیلا کوالیشن‘ نے ان پروازوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کئی دیگر کارکنوں کو براہِ راست ان کے آبائی ممالک بھیج دیا گیا ہے۔
استنبول ایئرپورٹ کے وی آئی پی ٹرمینل کے اندر پہنچنے والے کارکنوں کے پہلے گروپ کا استقبال کرنے کے لیے فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے حامیوں کا ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔
ایک ترک شہری بلال کیتے نے طیارے سے اترنے کے بعد بتایا ’اسرائیلی افواج نے ہم پر حملہ کیا۔ ہم میں سے ہر ایک کو مارا پیٹا گیا، خواتین اور مرد سب کو۔۔۔ یہ وہی کچھ ہے جس کا تجربہ فلسطینی ہر وقت کرتے ہیں۔‘
ٹرمینل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کارکن نے نعرہ لگایا ’فلسطینی عوام اکیلے نہیں ہیں!‘
انہوں نے ہجوم کے نعروں کے گونج میں کہا ’ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مارا پیٹا گیا، اور بین الاقوامی پانیوں میں گرفتار کیا گیا لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔ ہم واپس جائیں گے۔ فلسطین دریا سے سمندر تک آزاد ہو گا۔‘
فلوٹیلا کے ارکان کی نمائندگی کرنے والے قانونی مرکز ’عدالہ‘ کے مطابق زیادہ تر کارکنوں کو اسرائیل کے انتہائی جنوب میں واقع ریمون ایئرپورٹ سے ملک بدر کیا جا رہا تھا۔
 اس سے قبل انہیں غزہ کے قریب صحرائے نقب میں واقع اسرائیل کی کصیوت جیل میں رکھا گیا تھا۔
’عدالہ‘ کے ترجمان نے بتایا کہ مصر کے کارکنوں کو طابا سرحد اور اردن کے کارکنوں کو عقبہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ دو جنوبی کوریائی شہریوں کو ان کے ملک واپس اور ایک اسرائیلی شہری کو اسرائیل میں ہی رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ ملک بدریاں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی اتامار بن گویر کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے بعد عمل میں آئیں، جس میں حراست میں لیے گئے کارکنوں کو بندھے ہوئے ہاتھوں اور زمین پر ماتھے ٹیکے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

’عدالہ‘ کے مطابق زیادہ تر کارکنوں کو اسرائیل کے انتہائی جنوب میں واقع ریمون ایئرپورٹ سے ملک بدر کیا جا رہا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

ویڈیو کے کیپشن میں ’ویلکم ٹو اسرائیل‘ لکھا تھا جس میں وزیر کو زیرِ حراست کارکنوں کے درمیان اسرائیلی پرچم لہراتے اور جملے کستے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس ویڈیو پر دنیا بھر کی حکومتوں بشمول اٹلی، اسپین، آسٹریلیا اور کینیڈا کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔ خود اسرائیل کے اندر بھی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو، وزیرِ خارجہ گیدون سار اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بن گویر پر تنقید کی۔
اٹلی اور سپین نے یورپی یونین سے بن گویر پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم مائیکل مارٹن نے یورپی یونین کے سربراہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تادیبی اقدامات کریں،جس میں بستیوں کی مصنوعات پر پابندی اور ایسوسی ایشن معاہدے کی معطلی شامل ہو۔
برطانیہ نے بھی اس ’اشتعال انگیز ویڈیو‘ پر اسرائیل کے اعلیٰ ترین سفارت کار کو طلب کیا۔
’انہوں نے ہمیں لاتیں ماریں‘
’عدالہ‘ کی قانونی ڈائریکٹر سہاد بشارہ نے بتایا کہ دو شرکاء ہسپتال میں داخل ہیں جنہیں ربڑ کی گولیاں ماری گئیں جبکہ دیگر کے پسلیاں ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔
دیگر کارکنوں سے پہلے ملک بدر کیے جانے والے اطالوی صحافی الیسانڈرو مانتووانی نے بتایا ’وہ ہمیں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا کر بین گوریان ایئرپورٹ لے گئے۔ انہوں نے ہمیں مارا پیٹا، لاتیں اور گھونسے مارے اور چلاتے رہے ’ویلکم ٹو اسرائیل‘۔‘
واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے تحت قریباً 50 بحری جہاز ترکیہ سے روانہ ہوئے تھے۔
اسرائیل 2007 سے غزہ کے تمام داخلی راستوں کو کنٹرول کرتا ہے اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے کے بعد سے اس علاقے کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

شیئر: