Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہزادی نورہ بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی خواتین کو با اختیار بنانے والی جامعات میں شامل

سعودی وزیرِ تعلیم یوسف بن عبداللہ البنیان نے اعزاز سے نوازا ہے ( فائل فوٹو)
سعودی عرب کے مستقبل کی تشکیل کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اور سماجی ذمہ داریوں کے میدان میں انھیں قیادت سونپنے کے اعتراف کے طور پر شہزادی نورہ بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی کو باقاعدہ تسلیم کیا گیا ہے۔
سعودی جامعات میں سنہ 2025 میں سماجی ذمہ داریوں کے میدان میں ممتاز حیثیت اختیار کرنے پر وزیرِ تعلیم یوسف بن عبداللہ البنیان نے خواتین کے لیے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی شہزادی نورہ بنتِ عبدالرحمٰن کو اعزاز سے نوازا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس تقریب میں یونیورسٹی کی قائم مقام صدر ڈاکٹر فوزیہ بنتِ سلیمان العمر، جامعہ کے صدور اور تعلیم، تربیت اور غیر نفع بخش تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔یہ تقریب وزارتِ تعلیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی۔
شہزادی نورہ بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی کو اپنے مختلف ذیلی اداروں، ڈِین شپ، کالجوں، مراکز اور محکموں کے ذریعے کوششوں اور سماجی ذمہ داری میں بہترین خدمات کے  اعتراف میں اعزاز دیا گیا۔
 یہ تقریب ’سعودی سوشل ریسپونسیبیلیٹی ڈے‘ کو منانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
سنہ 2025 میں شہزادی نورہ بنتِ عبدالرحمٰن یونیورسٹی نے تعلیمی ترقی کے میدان اور کمیونٹی کو ساتھ شامل کرتے ہوئے ریسرچ کے تقریباً 59 ذمہ دار منصوبےمکمل کیے، تقریباً 691 ذمہ دار منصوبوں پر عمل درآمد کیا اور 170 سے زیادہ ذمہ دار کورسسز تیار کیے۔
اس کے علاوہ یونیورسٹی کی جانب سے 190 سے زیادہ تقاریب اور عملی منصوبوں نے پرنسس نورہ بنت عبدالرحمٰن یونیورسٹی کی موجودگی اور معاشرے میں اس کے اثر رسوخ کو نمایاں کرنے میں کردار ادا کیا۔
ٹریننگ اور ترقی کے محاذ پر، یونیورسٹی نے تقریباً 496 تربیتی سرگرمیاں پیش کیں جبکہ اس کے سماجی ذمہ داریوں اور پائیداری کے یونٹس نے 750 پروگرام فراہم کیے جن میں یونیورسٹی اور اس کے دیگر شعبوں کے عملے، انتظامی عملہ، طلبہ اور کئی کمیونٹی گروپس شامل ہیں۔
منیرہ نجمان نے جو یونیورسٹی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے کارپوریٹ کمیونیکیشن کے شعبے میں سماجی ذمہ داری اور شراکت کاری کی ڈائریکٹر ہیں، وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ’ شہزادی نورہ بنت عبدالرحمٰن یونیورٹسی کو ملنے والا اعزاز ظاہر کرتا ہے کہ اس جامعہ نے سماجی ذمہ داری کو ایسے پائیدار ادارہ جارتی انداز میں اختیار کیا ہے جو اس کے تعلیمی اور معاشرتی اثر رسوخ کے عزم کا اظہار ہے اور پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول میں تعاون فراہم کرتا ہے۔‘

 

شیئر: