چند دن قبل ایک دوست نے واٹس ایپ پر ’گارڈین اخبار‘ کی ایک فہرست بھیجی۔ دنیا کے سو عظیم ترین ناول۔ میں تب آرام سے نیم دراز لیٹا موبائل پر سکرولنگ کر رہا تھا۔ میسج میں ناولوں کی فہرست دیکھتے ہی اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پہلی نظر میں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی عام کام نہیں ہوا۔
’گارڈین‘ ممتاز برطانوی اخبار ہے، سنجیدہ، معیاری اورقابل اعتماد مواد کی بنا پر اسے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ’گارڈین‘ نے یہ کام بڑے اہتمام سے کیا، دنیا بھر کے ایک سو 72 نامور ادیبوں، نقادوں، پروفیسروں سے ان کے پسندیدہ ترین ٹاپ ٹین ناولوں کی لسٹ منگوائی۔
شرط یہ تھی کہ ناول انگریزی زبان میں شائع ہوئے ہوں یا کم از کم ان کا ترجمہ انگریزی میں ہوا ہو۔ ان ادیبوں، نقادوں کے بھیجے گئے جوابات پر مبنی ڈیٹا کو اکھٹا کیا گیا۔ یوں یہ سو عظیم ناولوں کی فہرست تیار ہوئی۔
مزید پڑھیں
-
ہم مڈل کلاس والوں کا سب سے بڑا دھوکہ، عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 903805
-
کراچی یا لاہور، کس کے کھانے زیادہ اچھے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 904092
میں نے سکرول کرنا شروع کیا۔ ایک ایک نام پر رک رک کر پڑھتا رہا۔ کبھی مسکراہٹ آئی، کبھی کوئی پرانی یاد جاگی، کبھی افسوس ہوا کہ یہ ابھی تک نہیں پڑھا۔ پھر جب فہرست ختم ہوئی تو تو کیلکولیٹ کرنا شروع کیا کہ کتنے ناولوں کے اردو تراجم ہوچکے ہیں۔
معلوم ہوا کہ 35 کے قریب ناولوں کے اردو تراجم ہوچکے ہیں، بعض کے ایک سے زیادہ ترجمے ہوئے۔ خوشی ہوئی کہ ان میں سے بیشتر پڑھ رکھے ہیں، دو چار ہی رہ گئے جو یہاں لاہور میں نہ چھپنے کی وجہ سے کتاب میلوں میں نظر ہی نہیں آئے۔
سو ناول کہاں کہاں سے آئےہیں؟
برطانوی ناول سب سے زیادہ ہیں، تیس کے اوپر۔ امریکی ناول بھی کوئی پندرہ سولہ ہیں۔ یعنی ان میں امریکی، برطانوی، آئرش انگریزی میں لکھے ناول نصف کے لگ بھگ ہیں۔
روسی ناول اگرچہ تعداد میں کم ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ چند ایک ناول ایک بڑی تعداد پر حاوی ہیں، معیار اور ضخامت دونوں میں۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ان روسی ناولوں کو اس میں سے نکال دیا جائے تو سو ناولوں کی بقیہ فہرست بیکار ہوجائے گی، لوگ اسے اٹھا کر ڈسٹ بن میں پھینک دیں گے۔ کون ہے جو ٹالسٹائی کے ’وار اینڈ پیس‘، اینا کارینینا اور دوستئوفسکی کے ’برادرزکرامازوف‘، ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ کو نظرانداز کرے گا؟
ایشیائی یا ایشیائی نژاد ادیبوں کے بمشکل پانچ ناول ہیں۔ وی ایس نائپال کا ’اے ہاوس فار مسٹر بسواس‘، اروندھتی رائے کا ’گاڈ آف سمال تھنگز‘، رشدی کا ’مڈ نائٹ چلڈرن‘، روہنٹن مستری کا ’اے فائن بیلنس‘ جبکہ کوریا سے ہان کانگ کا ناول ’ویجیٹرین۔‘
تین فرانسیسی ناول ہیں۔ مشہور زمانہ گستائو فلابئیر اپنے دو ناولوں ’مادام بواری‘ اور ’سینٹی مینٹل ایجوکیشن‘ کےساتھ شامل ہے، مارسل پروست کا کئی ہزار صفحات پر مشتمل شاہکار ’ان سرچ آف لاسٹ ٹائم۔‘ یہ غیر معمولی ناول سمجھا جاتا ہے۔ سپینی ادب سے صرف ایک ناول ہے، سر وانتیز کا ’ڈان کیخوٹے‘، یہ دلچسپ ناول ہے، سترھویں صدی میں لکھا گیا، نقاد اسے دنیا کا پہلا جدید ناول کہتے ہیں۔
لاطینی امریکہ سے گارشیا مارکیز اپنےشہرہ آفاق ناول ’تنہائی‘ کے سو سال کے ساتھ نمایاں ہے۔ میکسیکن ادیب حوان رولفو کا ’پیدرو پارامو‘ یعنی ’بنجر میدان‘ 96 ویں نمبر پر ہے، یہ ناول صرف ایک سو 20 صفحے کا ہے مگر پوری لاطینی ادبی روایت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

چار افریقی ناول ہیں۔ چنوا اچیبے کا ’بکھرتی دنیا‘ یعنی ’تھنگز فال اپارٹ‘، نائجیریا، بائیسواں نمبر۔ یہ افریقی ادب کا سب سے مشہور ناول ہے۔ اینگوزی ادیچی کا ’ہاف آف اے یلو سن‘، نائجیریا، 62 واں نمبر۔ تسیتسی دانگارمبگا کا ’نروس کنڈیشنز‘، زمبابوے، 74 واں نمبر۔ جے ایم کوئٹزی کا ’ڈسگریس‘ یعنی ’رسوائی کی ساتویں سمت‘، جنوبی افریقہ، 58 واں نمبر۔ یہ نوبیل انعام یافتہ ادیب ہیں۔
یہ پوری تصویر کچھ یوں بنتی ہے: پنتالیس کے قریب برطانوی اور آئرش ناول۔ پندرہ سولہ امریکی ناول۔ چھ روسی ناول۔ چار پانچ افریقی ناول۔ تین فرانسیسی ناول۔ پانچ ایشیائی ناول۔ دو لاطینی امریکی، ایک سپینی، ایک جرمن اور چند ایک اطالوی یا دیگر ناول۔
خواتین ناول نگاروں کی نمائندگی
ورجینیا وولف پانچ ناولوں کے ساتھ سرفہرست ہیں، ’لائٹ ہاؤس کی سیر‘، ’مسز ڈیلووے‘، اور’لینڈو، دی ویوز‘ اور ’جیکبز روم۔‘ ورجینا وولف کی اپنی شخصیت بھی منفرد ہے، مگر وہ الگ مفصل تحریر کی مستحق ہیں۔
جین آسٹن کے چار ناول ہیں، ’پرائیڈ اینڈ پریجوڈیس‘، ’ایما‘، ’پرسوئیژن‘ اور ’مینسفیلڈ پارک‘۔ ٹونی موریسن کے تین ناول ہیں، شارلٹ برونٹے اور ایملی برونٹے دونوں بہنوں کا ایک ایک ناول شامل ہے۔ اروندھتی رائے کا بھی ایک ناول ہے۔ ’ڈورس لیسنگ‘، ’میری شیلے‘، ’مارگریٹ ایٹ وڈ‘، ’ہان کانگ‘ وغیرہ کے ایک ایک ناول ہیں۔
اس فہرست میں سب سے زیادہ ناول ورجینا وولف کے ہیں۔ یعنی ایک خاتون ادیبہ نےسب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ورجینیا وولف کے یہ ناول محض تعداد نہیں، ناول نگاری کی تکنیک اور شعور کے بہاؤ کے اعتبار سے بھی انقلابی ہیں۔ ویسے فہرست میں خواتین ادیباؤں کی مجموعی تعداد ایک تہائی کے لگ بھگ ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ تعداد کم ہے، زیادہ ہونی چاہیے تھی۔
فہرست میں سرِفہرست ناول جارج ایلیٹ کا میڈل مارچ ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ جارج ایلیٹ دراصل ایک خاتون تھیں جن کا اصل نام میری این ایونز تھا۔ انیسویں صدی کے وکٹورین دور میں خواتین کی تحریروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، انہیں زیادہ سے زیادہ رومانوی کہانیاں لکھنے والی سمجھا جاتا تھا، اس لیے میری این ایونز نے جارج ایلیٹ کا مردانہ قلمی نام اختیار کیا اور پھر وہی ہوا جو وہ چاہتی تھیں، ان کا ناول شائع ہوا تو لوگ اسے سنجیدہ ادبی شاہکار سمجھ کر پڑھنے لگے۔

اسی زمانے میں برونٹے بہنوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تھا۔ شارلٹ برونٹے نے ’کیرر بیل‘، ایملی برونٹے نے ’ایلس بیل‘ اور این برونٹے نے ’ایکٹن بیل‘ کے نام سے لکھا۔ تینوں بہنوں نے ایک ہی وقت میں اپنے اپنے ناول شائع کیے، تینوں مردانہ ناموں سے، اور تینوں کے ناول بعد میں انگریزی ادب کے کلاسیک بن گئے۔
شارلٹ کا ’جین آئر‘ آٹھویں نمبر پر ہے اور ایملی کا ’ودرنگ ہائیٹس‘ 20 ویں نمبر پر۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ عورت کو اپنا نام چھپا کر لکھنا پڑتا تھا، آج وہی نام ادبی تاریخ کے سنہری صفحات پر لکھے ہیں۔
دوسرے نمبر پر ٹونی موریسن کا ’بیلوڈ‘ یعنی دلاری ہے۔ ٹونی موریسن کو نوبیل انعام بھی ملا۔ یہ امریکہ میں غلامی کے ایک تاریک باب کی کہانی ہے، بہت بھاری اور بہت گہرا ناول۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔
چند قابل ذکر ناول
ٹالسٹائی کا ’جنگ اور امن‘ ساتویں نمبر پر ہے۔ خاکسار سمجھتا ہے کہ اگر یہ فہرست صرف وزن اور گہرائی کی بنیاد پر بنتی تو یہ ناول پہلے نمبر پر ہوتا۔ پندرہ سو صفحے کا یہ ناول نپولین کے روس پر حملے کے پس منظر میں لکھا گیا، پانچ کنبوں کی کہانی ہے، مگر اصل میں انسانی فطرت کا ایک مکمل دستاویز ہے۔
محبت، جنگ، موت، ایمان، اقتدار، زندگی کی ہر پرت اس ناول میں کھلتی ہے۔ اسی ٹالسٹائی کا ’اینا کاریننا‘ چھٹے نمبر پر ہے، ایک عورت کی المناک کہانی جو معاشرے کے بنائے ہوئے قوانین توڑتی ہے اور قیمت ادا کرتی ہے۔ دونوں ناولوں کا اردو ترجمہ شاہد حمید نے کیا۔ یہ وہ عظیم مترجم ہیں جنہوں نے اکیلے وہ کام کردکھایا جو ان سے پہلے کسی اردو مترجم سے نہ ہوسکا تھا۔ پندرہ سو صفحے کا ’جنگ اور امن‘ اور کم وبیش اتنے ہی صفحات کا ’کرامازوف برادران۔‘ دونوں مکمل اور شاندار اردو ترجموں میں۔ شاہد حمید نے جین آسٹن کا ناول ’پرائیڈ اینڈ پریجوڈیس‘ یعنی تکبر و تعصب بھی اردو میں منتقل کیا۔
یہ تینوں ترجمے اردو ادب کا اثاثہ ہیں اور شاہد حمید کا نام ان شاندار ناولوں کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
دوستئوفسکی کا معاملہ اور بھی عجیب ہے۔ اس کے دو ناول اس فہرست میں ہیں، ’جرم و سزا‘ اور ’برادران کراما زوف۔‘ ’جرم و سزا‘ میں ایک نوجوان قاتل بنتا ہے اور پھر اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں گھٹنے ٹیک دیتا ہے، ایسی نفسیاتی گہرائی آج بھی شاید ہی کسی ناول میں ملے۔

’کرامازوف برادران‘ دوستئوفسکی نے انتقال سے چند ماہ پہلے مکمل کیا، گویا پوری زندگی کی فکر اس ناول میں انڈیل دی۔ ایمان اور بے یقینی، خدا کا وجود اور انسانی بدی، یہ سوال آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے ڈیڑھ سو برس پہلے تھے۔
گارشیا مارکیز کا ’تنہائی کے سو سال‘ سترہویں نمبر پر ہے۔ یہ ناول پڑھتے ہوئے ایک عجیب کیفیت ہوتی ہے، لگتا ہے کہ ماکوندو کے اس فرضی قصبے کی کہانی دراصل ہماری اپنی ہے، بس نام اور جغرافیہ بدلا ہوا ہے۔ انقلاب آتا ہے، امیدیں جاگتی ہیں، پھر وہی پرانی بے بسی لوٹ آتی ہے اور نسلیں گزرتی رہتی ہیں۔
اروندھتی رائے کو ہمارے ہاں لوگ بطور سیاسی کارکن اور انڈین فوج کی ناقد کے طور پر جانتے ہیں، مگر ان کا ناول ’گاڈ آف سمال تھنگز‘ یعنی سسکتے لوگ بجائے خود ایک شاہکار ہے۔ یہ ناول 1997 میں بکر انعام جیتا۔ کیرالہ کے ایک گاؤں میں جڑواں بہن بھائی کی کہانی، ذات پات کا جبر، محبت کی ناممکنیت اور وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں جو زندگیاں بناتی اور توڑتی ہیں، اس ناول کو پڑھ کر ہمارے اپنے برصغیر کے بہت سے گھاؤ تازہ ہوجاتے ہیں۔
ایک اور دلچسپ ناول ہے شاکا ہاری، جو کورین ادیبہ ہان کانگ کے ناول ’ویجی ٹیرین‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ ہان کانگ کو 2024 میں ادب کا نوبیل انعام ملا اور اس سے پہلے اس ناول کو 2016 میں انٹرنیشنل بکر انعام بھی مل چکا تھا۔ کہانی ایک کورین عورت کی ہے جو ایک رات فیصلہ کرتی ہے کہ گوشت نہیں کھائے گی۔ اتنا سا فیصلہ، مگر اس سے اس کی پوری دنیا الٹ پلٹ ہوجاتی ہے۔ خاوند، خاندان، معاشرہ، سب اسے پاگل قرار دیتے ہیں۔ یہ ناول دراصل ایک عورت کی خاموش بغاوت کی کہانی ہے، ایسے معاشرے کے خلاف جو اسے ہمیشہ سے بے آواز دیکھنا چاہتا ہے۔
جارج اورویل کا ’1984‘ سولہویں نمبر پر ہے۔ اورویل نے 1949 میں یہ ناول لکھا، آج پڑھو تو لگتا ہے کل لکھا گیا ہو۔ بگ برادر، سرکاری سچ اور نگرانی کا جو نقشہ اورویل نے کھینچا، وہ آج کئی ممالک میں حقیقت بن چکا ہے۔
فرانز کافکا کا ناول ’دی ٹرائل‘ یعنی ’مقدمہ‘ بھی فہرست میں ہے۔ ایک آدمی صبح اٹھتا ہے، اسے بتایا جاتا ہے کہ اس پر مقدمہ چل رہا ہے، کیوں اور کس جرم میں یہ کبھی واضح نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں کے کئی لوگ مقدمہ پڑھ کر اپنی کہانی پہچانیں گے۔

اس فہرست کو ادبی اصناف کے حوالے سے بھی دیکھنا دلچسپ ہے۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات یعنی پوسٹ کولونیل ادب کی نمائندگی خاصی بھرپور ہے۔ چنوا اچیبے کا ’بکھرتی دنیا‘، اروندھتی رائے کا ’سسکتے لوگ‘، جین ریز کا ’وائیڈ سارگاسو سی‘، چیمامانڈا اینگوزی ادیچی کا ’ہاف آف اے یلو سن‘، یہ سب وہ ناول ہیں جن میں نوآبادیاتی نظام کے زخم، شناخت کا بحران اور آزادی کے بعد کی بے یقینی کو آواز دی گئی ہے۔ یہ ناول پڑھ کر ہمیں اپنی تاریخ کے کئی ورق سمجھ آتے ہیں کہ برصغیر سے افریقہ تک استعمار نے جو نقش چھوڑے، ان کا درد ایک ہی جیسا ہے۔
علامتی یعنی سمبولک ناولوں کی بات کریں تو کافکا کا ’دی ٹرائل‘ کے علاوہ اورویل کا ’1984‘ بھی اسی زمرے میں آتا ہے جہاں بگ برادر محض ایک کردار نہیں بلکہ ہر آمرانہ نظام کی علامت ہے۔ گارشیا مارکیز کا ’تنہائی کے سو سال‘ جادوئی حقیقت نگاری کا شاہکار ہے جہاں ماکوندو کا قصبہ پوری لاطینی امریکی تاریخ کی علامت بن جاتا ہے۔
جدیدیت کے بعد کے یعنی پوسٹ ماڈرن ناولوں کا بھی اچھا خاصا حصہ ہے۔ ناباکوف کا ’پیل فائر اور لولیتا‘، اور جیمز جوائس کا ’یولیسس‘ جو پوسٹ ماڈرن تجربے کا سب سے بڑا نمونہ سمجھا جاتا ہے، یہ سب اس فہرست میں موجود ہیں۔ پوسٹ ماڈرن ادب روایتی کہانی کے ڈھانچے کو توڑتا ہے، وقت آگے پیچھے کرتا ہے، راوی پر شک ڈالتا ہے اور قاری کو محض تماشائی نہیں رہنے دیتا، سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
جیمز جوائس کا ’یولیسز‘ ایک عجیب وغریب ناول ہے، ایک دن کی کہانی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ مشکل ناول ہے لیکن اگر سمجھ آ جائے تو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اس کا ترجمہ بھی مشکل ہے۔ ممتاز ادیب، مترجم انورسن رائے اس کا اردو ترجمہ کر رہے ہیں جون کے وسط تک وہ بک کارنر جہلم سے شائع ہوجائےگا۔
اب اصل بات پر آتے ہیں۔ ان سو ناولوں میں سے پینتیس کے اردو تراجم ہوچکے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ان میں سے کئی ’بک کارنر جہلم‘ نے شائع کر رکھے ہیں، ’وار اینڈ پیس ریڈنگز‘ بکس لاہور نے چھاپا ہے، چند ایک ناول کراچی کے پبلشرز نے شائع کئے۔ ان سب کا اردو قارئین پر احسان ہے۔
فہرست پر ہونے والے اعتراضات
گارڈین کی اس فہرست میں ایک بڑی خامی بھی ہے جو چبھتی ہے۔ یہ تمام ناول انگریزی یا یورپی و امریکی روایت سے ہیں۔ عربی، فارسی، اردو، چینی ادب کا کوئی نام نہیں۔ نجیب محفوظ، ٹیگوروغیرہ کے ساتھ جاپان کا ہاروکی موراکامی، ترک ادیب اورحان پاموک، البانیہ کا اسماعیل کادارا وغیرہ بھی شامل نہیں۔ حیران کن طور پر میلان کنڈیرا بھی شامل نہیں۔ یوں لگا گارڈین کی نظر مغرب سے آگے کم ہی جاتی ہے۔
دراصل یہ ایک ’عالمی‘ سروے ہے، لیکن برطانوی/مغربی ادبی حلقوں کا غلبہ ہے۔












